پشاور میں پانی ناپید ، ٹیوب ویل بند، عوام پانی خریدنے پر مجبور

عدنان بشیر خان

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جہاں 55 کمیونٹی بیس ٹیوب ویلز کی بندش اور کروڑوں روپے کے بجلی واجبات سامنے آنے سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹی ایم اے بیس کے 55 ٹیوب ویلز تاحال Peshawar Electric Supply Company کے زیرِ انتظام ہیں اور ان کی ہینڈنگ ٹیکنگ Water and Sanitation Services Peshawar (ڈبلیو ایس ایس پی) کو نہیں کی جا سکی، جس کے باعث پانی کی فراہمی کا نظام بری طرح متاثر ہے۔دستاویزی معلومات کے مطابق ان ٹیوب ویلز پر بجلی کے بقایاجات 20 لاکھ روپے سے لے کر 1 کروڑ 30 لاکھ روپے تک پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث متعدد ٹیوب ویلز مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ذرائع کے مطابق بند ہونے والے ٹیوب ویلز میں پہاڑی پورہ غنی کالونی، ایشین ماڈل اسکول کے ساتھ ٹیوب ویل، اور محلہ اسلام آباد کے ٹیوب ویلز شامل ہیں، جہاں پانی کی فراہمی مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے۔سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی جانب سے ہدایات کے باوجود ان ٹیوب ویلز کی ہینڈنگ ٹیکنگ کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔جبکہ موجودہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے مسئلے کا حل یقینی بنائیں۔شہریوں نے ایم این اے آصف خان (32) اور صوبائی وزیر مینا خان آفریدی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مسئلے کا فوری حل نکالا جائے، بصورت دیگر وہ سڑکوں پر احتجاج اور اسمبلی کا گھیرا ئوکرنے پر مجبور ہوں گے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی شدید قلت کے باعث انہیں مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پڑ رہے ہیں، جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed