پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے عدلیہ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے پر کبل بار کے رکن کو جاری توہین عدالت نوٹس کیس کی سماعت کی۔
مذکورہ وکیل نے عدالت میں غیر مشروط معافی نامہ جمع کرایا جس کے بعد کیس جسٹس اعجاز انور کے بینچ کو منتقل کر دیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعدد جوڈیشل افسران کو برطرف کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نظام کو درست کیا گیا ہے اور اب کسی سیاسی شخصیت کے کہنے پر ٹرانسفر نہیں ہوگا۔
چیف جسٹس نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بار کونسل اور ایسوسی ایشنز کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
عدالت نے واضح کیا کہ نظام کی مضبوطی کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وکلاء کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
سماعت غیر مشروط معافی کے بعد ملتوی کر دی گئی۔
کبل بار کے رکن کیخلاف توہین عدالت کا کیس تبدیل







