وفاقی آئینی عدالت نے وکلا کی ہڑتالوں اور بائیکاٹ کے خلاف دائر اپیل خارج کردی اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔خیبر پختونخوا بار کونسل ک اپیل کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ اپیل کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے شبیر حسین گیگیانی اور علی عظیم ایڈوکیٹس کے لائسنس معطل کئے تھے کیونکہ انہوں نے بار کونسل کے مختلف قراردادوں کے بر عکس مقدمات کی پیروی کی جس پر انکے لائسنس معطل کئے گئے۔انہوں نے بتایاکہ مذکورہ وکلا نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور ہائیکورٹ نے انکی درخواستیں منظور کرلی اور بار کونسل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا عدالت نے قرار دیا کہ وکلا تنظیموں کی جانب سے ہڑتالوں اور بائیکاٹ کے ذریعے وکلا کو کیس لینے یا عدالت میں پیش ہونے سے روکنا آئین اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور آئے روز وکلا ہڑتالوں کے باعث سائلین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے عدالت نے قرار دیا کہ وکلا تنظیمیں کسی بھی وکیل کو کسی مقدمے کی پیروی سے نہیں روک سکتیں، کیونکہ یہ اقدام سائلین اور ملزمان کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ مزید کہا گیا کہ ہڑتال کے دوران عدالتوں کا بائیکاٹ، اور پیشی کرنے والے وکلا کے خلاف کارروائی کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔فیصلے کے مطابق وکلا تنظیموں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ہڑتال یا قرارداد کی بنیاد پر وکلا کے خلاف کارروائی کریں یا ان کے لائسنس معطل کریں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پیشہ ور وکلا کو کام سے روکنا قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ہڑتالوں کے باعث عدالتی نظام متاثر ہوتا ہے اور غریب سائلین کے مقدمات التوا کا شکار ہو جاتے ہیں ۔وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کی سماعت کے دوران بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ فیصلہ بار کونسل کے اختیارات میں مداخلت ہے کیونکہ ایک ریگولیٹری باڈی اگر ڈسپلن قائم نہیں رکھے گی تو اس سے مسائل بڑھیں گے اور پھر ان پر چیک بھی نہیں رکھا جا سکے گا ۔اسکے علاوہ بار کونسل کی وکلا کے خلاف شکایت سنتی ہے اور پھر اس پر فیصلہ کرتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور دائر اپیلیں خارج کردی۔







