پاکستان تحریک انصاف کے سابق ترجمان اور سینئر قانون دان محمد معظم بٹ ایڈووکیٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کو تقریبا 150 ارب روپے کا سرپلس بجٹ دینے کے اقدام پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اسے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے خلاف قرار دیکر اس اقدام کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے اعلان کردیا۔ان کاکہناہے کہ وفاق نے صوبے کے واجبات اداکرنے ہیںجوکہ وہ نہیںکررہاہے ، اپنے بقایاجات لینے کی بجائے صوبائی حکومت سرپلس بجٹ کی شکل میں وفاق کو مالی فوائد پہنچارہاہے جوکہ سمجھ سے بالا تر ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت بنیادی شعبوں میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک جانب سرکاری سکولوں کی اپ گریڈیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے جبکہ اساتذہ، پروفیسرز اور دیگر سرکاری ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی ادائیگی میں بھی مسائل درپیش ہیں،اسکے علاوہ فاٹا اور پاٹا میں بھی ترقی امور تاحال شروع نہ ہوسکے مگر اس کے باوجود صوبے کے وسائل سرپلس بجٹ کی صورت میں وفاق کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف عوامی وسائل کے استعمال پر سوالیہ نشان ہے بلکہ صوبے کے عوام کے حقوق پر سمجھوتے کے مترادف ہونے کے ساتھ ساتھ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے بھی خلاف ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ کن وجوہات کی بنیاد پر صوبے کا سرمایہ وفاق کو دیا جا رہا ہے اور اس کے بدلے صوبے کو کیا فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔معظم بٹ ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت سرپلس بجٹ کے حوالے سے فوری، واضح اور تفصیلی وضاحت پیش کرے تاکہ عوام میں پائے جانے والے خدشات دور کیے جا سکیں بصورت دیگر اس اہم مفاد عامہ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اورعدالت کے ذریعے صوبائی حکومت سے جواب طلب کریں گے تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







