لوڈشیڈنگ اور پیسکو کی انتظامی پالیسیوں کیخلاف دائر درخواستیں خارج

پشاور ہائیکورٹ نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پیسکو کی پالیسیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ سول عدالتوں کو لوڈشیڈنگ سے متعلق تنازعات میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔فیصلہ جسٹس وقار احمد پر مشتمل سنگل بنچ نے کوہاٹ کے رہائشیوں کی درخواست پر دیا۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ روزانہ 18 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔پیسکو کے وکیل نے دلائل دیے کہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے معاملات نیپرا کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔عدالت نے نیپرا ایکٹ 1997 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے شعبے میں شکایات کے ازالے کا اختیار نیپرا کو حاصل ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نے واضح کیا کہ جب قانون کسی معاملے کے لیے خصوصی فورم مقرر کر دے تو سول عدالتیں مداخلت نہیں کر سکتیں۔آخر میں عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی شکایات نیپرا کے متعلقہ فورمز پر پیش کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed