شعیب جمیل
پشاور یائیکورٹ کے جسٹس سید ارشدعلی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نیو پشاور ویلی پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی اور قرار دیا کہ اگلی پیشی پر اس کیس کو سنیں گے جبکہ پہلے سے جاری حکم امتناعی میں 21 جنوری تک توسیع کردی۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اس موقع پر عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزارہ مسمات گلفام کے وکیل آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے اس لئے سماعت ملتوی کی جائے۔ اس دوران ڈائریکٹرجنرل پراونشل ہاوسنگ اتھارٹی عمران وزیر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کاشف سکندری اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ مذکورہ پراجیکٹ ایک لاکھ کنال سے زائد رقبے پر محیط ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کو رہائشی سہولیات میسر آئیں گی اور یہ اپنی نوعیت کا ایک بہترین پراجیکٹ ہے اس ضمن میں پی سی ون تیار کرلیا گیا ہے اور حکومت نے اس کی منظوری بھی دی ہے جبکہ تمام متعلقہ محکموں سے این او سی بھی حاصل کیا گیا ہے تقریبا ایک لاکھ سے زائد کنال اراضی حاصل کی گئی ہے مگر ایک کیس میں یہاں سے حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے یہ پراجیکٹ مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے اس لئے حکم امتناعی واپس لی جائے تاکہ اس منصوبے پر کام کا اغاز کیا جا سکے کیونکہ مہنگائی کے باعث اس پراجیکٹ کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈی جی عمران وزیر نے عدالت کوبتایا کہ وہ اس منصوبے کی نگرانی کررہے ہیں عدالت نے قرار دیا چونکہ درخواست گزار کے وکیل آج کیس کے التوا کی درخواست دی ہے اس لئے اس مرحلے پر کیس کو نہیں سنا جا سکتا اور مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی اور قرار دیا کہ اگلی پیشی پر اس کیس کو سنیں گے واضح رہے کہ نیو پشاور ویلی کے قیام کے لئے حکومت نے فنڈز اور پی سی ون کی منظوری دی ہے اور اب تک ایک لاکھ کنال سے زائد اراضی بھی حاصل کی گئی ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا جدید رہائشی منصوبہ ہوگا جس میں تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ڈی جی عمران وزیر کے مطابق اس ضمن میں تمام تیاریاں مکمل کی گئی ہیں اور جیسے ہی عدالت کی جانب سے حکم امتناعی ختم ہوگی اس میں ترقیاتی کام شروع کردیا جائے گا جس کے لئے تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کئے جا چکے ہیں۔







