اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت رفح سرحدی گزرگاہ کو فلسطینی اور مصری دونوں جانب سے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے پر عملی کام نیتن یاہو کے موجودہ امریکی دورے سے واپسی کے فورا بعد شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت کو غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کے انتظام سے متعلق علاقائی اور عالمی سطح پر ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ تل ابیب میں متعلقہ حکام نے رفح گزرگاہ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے انتظامی اور سکیورٹی تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے، تاکہ طے شدہ مفاہمتوں کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نئی امریکی انتظامیہ غزہ کی صورتحال کو کم کرنے اور افراد و سامان کی نقل و حرکت کو منظم بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ رفح گزرگاہ کو غزہ کے لیے ایک انتہائی اہم اور حیاتیاتی راستہ تصور کیا جاتا ہے۔







