پشاور ہائیکورٹ نے خاتون کی جانب سے بچوں کی بازیابی کیلئے دائر بچوں کی بازیابی پر نمٹا دی اور بچوں کو ماں کی تحویل میں دینے کے احکامات جاری کردیئے تا ہم بچوں کے والد کونشئی افراد کی بحالی کے مرکزمنتقل کرنے کی ہدایت کردی چیف جسٹس نے آئی جی پولیس کو بچوں کو کراچی سے پشاور منتقل کرنے کا خرچہ متعلقہ ایس ایچ او کو ادا کرنے کی بھی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فاضل بنچ نے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ایس ایچ او پہاڑی پورہ نے بچوں کو بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا، بچوں کے والد اور درخواست گزار خاتون بھی عدالت میں پیش ہوئیں، متعلقہ ایس ایچ او کے مطابق والد بچوں کو پہلے لاہور اور پھر کراچی لے کر گئے تا ہم عدالتی احکامات پر بچوں کو بازیاب کیا اور اپنے خرچے پر بچوں کو کراچی سے پشاور پہنچایا، آئی جی خیبرپختونخوا ایس ایچ او کو بچوں کے سفر پر خر چ ہونے والے دو لاکھ 60 ہزار روپے ادا کریں، والد نے عدالت کو بتایا کہ وہ کراچی میں کام کرتے ہیں اور بچوں اور خاتون کو وہاں لے جانا چاہتے ہیں،درخواست گزار خاتون کے مطابق بچوں کا والد نشے کا عادی ہے، بچوں اور اس کی جان کو خطرہ ہے۔اس لئے بچوں کو ماں کی تحویل میں دیا جاتا ہے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ پشاور میں مقیم ہوں گی، بچوں کے والد کو ریہیب سنٹر منتقل کیا جائے، سنیئر ایڈووکیٹ فدا گل ایڈوکیٹ اور میمونہ ایڈوکیٹ فریقین کو آپس میں بٹھائے اور اس مسلے کو حل کریں عدالت نے رٹ درخواست نمٹا دی۔







