دہشت گردی کے خلاف ایف سی کی بے مثال کارروائی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والا خودکش حملہ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خطرے سے ابھی مکمل طور پر باہر نہیں آیا۔ یہ حملہ صرف ایک سیکورٹی عمارت کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ ایک گہرا پیغام تھاکہ دشمن ابھی منظم ہے متحرک ہے اور ریاست کے اہم اداروں کو کمزور کرنے کے عزائم رکھتا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے ایف سی ہیڈکوارٹر کے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس کے بعد دیگر دو دہشت گردوں نے اندر گھسنے کی کوشش کی تاہم فورسز کی بھرپور اور بروقت کارروائی نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ اس بہادرانہ جواب نے ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان سے بچا لیا مگر اس کے باوجود تین ایف سی اہل کار شہید ہوئے جبکہ دو زخمی ہیں۔ ان شہدا ء نے اپنی جانیں دے کر ایک بار پھر اس دھرتی کے دفاع میں بے مثال قربانی کی مثال قائم کی۔ایسے حملوں کی منصوبہ بندی ٹائمنگ اور ہدف کے انتخاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر صرف انتشار نہیں پھیلانا چاہتے بلکہ ریاست کی علامتی قوتوں کو نشانہ بنانا ان کا مقصد ہے۔ ایف سی ہیڈکوارٹر نہ صرف ایک سیکورٹی عمارت ہے بلکہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں سے انسداد دہشت گردی کے اہم فیصلے اور آپریشن ترتیب پاتے ہیں۔ دہشت گردوں کا اصل ہدف یہی تھا کہ وہ اس مرکز کی سکیورٹی لائن کو توڑ کر نہ صرف فورسز کو نقصان پہنچائیں بلکہ ریاست کے حوصلے پر بھی ضرب لگائیں۔اس تناظر میں فورسز کی فوری کارروائی، علاقے کا گھیرائو، پولیس، ایلیٹ فورس اور دیگر اداروں کی بروقت آمد قابل ستائش ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران خصوصاً سی سی پی او میاں سعید کا خود آپریشن لیڈ کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ سکیورٹی ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور کسی بھی چیلنج کو براہ راست مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔دوسری طرف اس حملے نے شہر میں ایک بار پھر خوف کی فضاء پیدا کی۔ دھماکے کے فوراً بعد کینٹ روڈ صدر بازار اور بی آر ٹی سمیت اہم راستوں کو بند کرنا پڑا جس سے شہری زندگی متاثر ہوئی۔ بی آر ٹی سروس کی بندش اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک حملہ نہ صرف جانی نقصان بلکہ معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر دیتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے آخر یہ دہشت گرد دوبارہ سے منظم کیسے ہو رہے ہیں؟ کہاں خامیاں رہ گئی ہیں؟ سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، افغانستان کی بدلتی سیاسی اور سیکورٹی صورتحال اور اندرون ملک چند مخصوص حلقوں میں موجود انتہاپسندانہ سوچ اب بھی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن پر ریاست کو مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔پولیس اور ایف سی کی قربانیاں اپنی جگہ قابل قدر ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید موثر بنایا جائے شہروں میں سیف سٹی پروگرامز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور عوام میں آگاہی بڑھائی جائے تاکہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع ممکن ہو سکے۔ملک کے سیاسی حالات بھی سکیورٹی صورتحال پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ جب سیاسی انتشار بڑھتا ہے تو دشمن عناصر کے لیے موقع پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ ریاستی توجہ کی تقسیم سے فائدہ اٹھائیں۔ ایسے حالات میں قومی یکجہتی اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی پہلے سے زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔اس حملے کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر بنائے جس کے بارے میںوزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان نے بھی عزم کا اظہار کیاہے ۔ فورسز کا حوصلہ اور بہادری اپنی جگہ مگر پالیسی کی مضبوطی اداروں کی ہم آہنگی اور علاقائی سطح پر فعال ڈپلومیسی اس لڑائی کے اصل ستون ہیں۔ایف سی کے شہید اہلکاروں نے اپنے خون سے جس عزم کی تجدید کی ہے اسے ریاستی سطح پر مضبوط پالیسی اور عملی اقدامات کی صورت میں جواب ملنا چاہیے۔ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف اہم موڑ پر کھڑا ہیاب یہ ہمارے فیصلوں پر منحصر ہے کہ ہم آنے والے وقت میں مزید ایسے حملے دیکھتے ہیں یا دہشت گردی کے اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیتے ہیں۔md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed