بھارت کا ایک گائوں جسے منحوس گائوں کہا جاتا ہے

پڑوسی ملک میں ایک قصبہ کو منحوس گائوں کے نام سے پکارا جاتا ہے جس کی وجہ انتہائی خوفناک ہے۔بھارت جہاں توہم پرستی زیادہ ہے اور روزمرہ زندگی میں بھی کئی توہمات مشہور ہیں۔ اسی ملک میں ایک گائوں کو منحوس گائوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جو ہماچل پردیش میں ہے۔اس گائوں جس کا اصل نام سمو گائوں ہے۔ یہاں کے رہائشی ہندو ہیں، مگر پھر بھی اس گائوں میں 100سال سے نہ دیپ جلا اور نہ مٹھائی بانٹی گئی۔ جب پورا بھارت دیوالی کی روشنی سے منور ہوتا ہے، اس وقت یہ گائوں اندھیرے میں ڈوبا اور موت کی سی خاموشی چھائی ہوتی ہے۔گائوں کے عمر رسیدہ لوگوں کے مطابق اس گائوں کو بد دعا لگی ہے جس کی وجہ سے یہاں دیوالی نہیں منائی جاتی ۔یہاں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران اس گائوں کی ایک حاملہ خاتون دیپاولی اپنے میکے جانے کے لیے نکل رہی تھی کہ اس کا شوہر جو ہندوستان کی فوج میں تھا وہ جنگ لڑتے ہوئے مارا گیا اور جب اس کی لاش گائوں لائی گئی تو یہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور اپنے شوہر کے ساتھ ہی ستی ہو گئی (شوہر کی چتا کے ساتھ زندہ جل گئی)۔انہوں نے بتایا کہ مرتے مرتے وہ گائوں والوں کو یہ بد دعا دے گئی کہ اب یہاں دوبارہ کبھی دیوالی نہیں منائی جائے گی۔ اس وقت سے اب تک 100سال گزر جانے کے باوجود دیوالی پر نہ کسی گھر اور مندر میں چراغ جلتا ہے اور نہ ہی مٹھائیاں تیار کی جاتی ہیں۔ایک اور رہائشی ویر سنگھ نے بتایا ہمارے بزرگوں نے شروع میں کئی بار دیوالی منانے کی کوشش کی، لیکن نہیں منا سکے جب کہ آج بھی اگر کبھی کوئی دیوالی منانے کی کوشش کرتا ہے تو کسی کی موت یا کسی کے ساتھ سنگین حادثہ ہو جاتا ہے۔گائوں کے لوگ آنے جانے والے افراد سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دعا کریں کہ انہیں دیپاولی کی بددعا سے نجات ملے تاکہ وہ بھی یہ تہوار منا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed