انٹرنیشنل کرکٹ کو ایک ہی صوبے تک محدود کرنے پر پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کا تشویش کا اظہار
ایسا لگتا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ دیگر صوبوں کے اسپورٹس جرنلسٹس کو انٹرنیشنل میچز کی کوریج سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ پی ایس ڈبلیو ایف
ہوم سیریز کے دوران ساؤتھ افریقہ، سہہ ملکی سیریز اور ساؤتھ افریقہ ویمن کے میچز صرف پنجاب میں کرانے سے دیگر صوبوں کے اسپورٹس جرنلسٹس کو منفی پیغام گیا ہے، امجد عزیز ملک صدر پی ایس ڈبلیو ایف
ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں سب سے اہم کردار کراچی نے ادا کیا لیکن شہر قائد کو بھی بین الاقوامی میچز کی میزبانی سے محروم کرنے کی سازش ہورہی ہے، اصغر عظیم سیکریٹری جنرل پی ایس ڈبلیو ایف
پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرکٹ کو ایک صوبے تک محدود کرنے کی منصوبہ بندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، پی ایس ڈبلیو ایف کے صدر و اسپورٹس جرنلسٹس کی عالمی تنظیم AIPS Asia کے سیکریٹری جنرل امجد عزیز ملک کا کہنا ہے کہ کیا پنجاب کے علاؤہ پورے ملک میں امن و امان کا مسئلہ ہے یا پھر پنجاب کے علاؤہ کسی اور صوبے کے اسپورٹس جرنلسٹس کا انٹرنیشنل کرکٹ کی کوریج سے کوئی تعلق نہیں ہے، ساؤتھ افریقہ کے خلاف تینوں فارمیٹ پر مشتمل سیریز کے بعد پاکستان، سری لنکا اور افغانستان کے درمیان سہہ ملکی ٹی ٹوئینٹی سیریز کو بھی پنجاب تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ ساؤتھ افریقہ ویمن سیریز کے میچز سے بھی تینوں صوبوں کو الگ رکھ کر پنجاب میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا، پی سی بی کے اس عمل سے پورے پاکستان کے اسپورٹس جرنلسٹس میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، *چیئرمین پی سی بی محسن نقوی بتائیں پورے ملک کے اسپورٹس جرنلسٹس کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟؟؟؟ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ سے کیوں دور کیا جارہا ہے؟؟؟؟ پی ایس ڈبلیو ایف محسن نقوی سے اس متعصبانہ روپے کی وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے،* پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل اصغر عظیم کا کہنا ہے کہ دس سال بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی میں سب سے اہم کردار کراچی اور یہاں کے اسپورٹس جرنلسٹس نے ادا کیا، شہر قائد کے شائقین نے اس دوران کرفیو جیسے حالات کا بھی سامنا کیا لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کراچی کے جرنلسٹس کو انٹرنیشنل کرکٹ کی کوریج سے دور رکھنے کے ساتھ شہر کراچی کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے شہر کو بھی انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی سے دور کرنے کی سازش ہورہی ہے، سب جانتے ہیں افغانستان اور سری لنکا کے سب سے زیادہ سپورٹر کراچی میں ہیں لیکن اس کے باوجود شہر قائد کو میزبانی سے محروم رکھنے کے فیصلے کو متعصبانہ سلوک نہ کہیں تو اور کیا کہیں ۔۔۔۔







