پاکستانی سکواش کھلاڑیوں میں جیت کا جذبہ ختم ہوچکا ہے’ احمد گل

رپورٹ: عظمت اللہ

کویت کی قومی سکواش ٹیم کے ہیڈ کوچ و سابقہ ایشین نمبر ون احمد گل ا ان دنوں اپنے آبائی علاقہ نواں کلی پشاور آئے ہوئے ہیں گذشتہ روز انہوں نے حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاورمیں خیبرپختونخوا اوراسلام آبادسپورٹس جرنلسٹ کادوستانہ کرکٹ میچ دیکھا اور بطور مہمان خصوصی کے کھلاڑیوں میں تحائف بھی تقسیم کیں ۔ اس دوران انہوں نے  نمائندہ کسوٹی  سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ پاکستانی سکواش کھلاڑیوں میں وطن کی خاطر لڑ نے مرنے اورجیت کاجذبہ ختم ہوچکاہے وہ پاکستان کے لیے عالمی اعزات جیتنے کی نجائے سکواش کی بنیا دپر پاکستان سے بھاگنے کی تک ودو میں ہیں اورجلد سے جلد امریکہ ،یورپ آسٹریلیاجانے کی پلاننگ کررہے ہیں کھلاڑیوں سے ساتھ ساتھ پاکستان سکواش فیڈریشن کا بھی کردار قابل تعریف نہیںوہ بھی خلوص دل سے سکواش کواوپرلے جانے بچوں کی اعلی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہے جبکہ سب سے بڑاالمیہ زائد عمربچوں کو مختلف ایج ٹیموں میں شامل کرکے حقداربچوںکی راہ میں حائل کررہے ہیں جوکہ ہرلحاظ سے قابل مزمت بات ہے جب تک یہ سلسلہ ختم نہ کیاجاتاتب تک ناکامیان ہمارا مقدر رہی رہے گی فیڈریشن کوکئی اس مسئلہ سے اگابھی کیااورحقداربچوںکوا نکاحق دلونے کے لیے بات بھی کی مگرافسوس کہ پاکستان سکواش فیڈریشن خود نہیںچاہتی کہ ہمارے ملک کاسکواش ترقی کریں انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ایک سے ایک اعلی کوچ موجودہیںجوکہ دل وجان سے پاکستان کے بچوں کواعلی مقام پرلے جانے کاجذبہ رکھتے ہیںمیں خودبھی اپنی کویتی نوکری ۔آسائشیں زندگی ،لاکھوں کویتی دینار کی مرعات قربان کرکے پاکستان بچوںکی کوچنگ کے لیے یتارہوںفیڈریشن کوبھی اپنی خدمات پیش کی ہیںتاہم ان کی ترجہات کچھ اورہیںجس کی وجہ سے خاموشی اختیارکرلی ہے جب بھی اشارہ ملاتوکویت سے ناطہ توڑ کراپنے وطن کی خدمت کے لیے دستیاب ہونگا ایک سوال کے جواب میںانہوں نے بتایاکہ جان شیر،قمرزمان اورجہانگیرخان عمر،بیماری اوردیگرمصروفیات کی وجہ سے کوچنگ کی جانب نہیںآرہے ہیں اوروہ اس سلسلے میں اپنی مجبوریوںسے فیڈریشن کوآگاکرچکے ہیں انہوںنے بتایاکہ پاکستان میںکئی ایک کوالیفائیڈ کوچزموجودہیںاوران کوموقع ملاتووہ زبردست نتائج دینگے تاہم پاکستان سکواش فیڈریشن ٹس سے مس نہیںہورہی ہے اورنقصان ہمارے ملک اورسکواش کوہورہاہے کوچنگ ایک اسان کام نہیںکہ کیسی بچے کوریکٹ دیکر بال کودیوارس مارنے کاکہاجائے اسے پہلے ان کوکھیل کے لیے تیارکرناان کی صلاحیتوں کونکھارناہوتاہے ان کی خوراک،گیمزسے رولزسے ا گاکرناان میںنظم وضبط پیداکرناوردیگراہم امورسے آگاکرنابھی ایک کوچ کی ذمہ داری ہوتی ہے انہوںنے اپنے حوالے سے بتایاکہ وہ1992سے کویت میں بچوںکوکوچنگ کرارہے ہیںاورڈیڑھ سوسے زائد بچوںکو اپنے کلب سے تیارکرکے کویت کی قومی سکواش ٹیم کودیے ہیں جنہوںنے اپنے فیڈریشن وملک کے لیے وبین الاقوام سطح کے مختلف اعزازت جیتتے اوراپنے فیدریشن وملک کانام بین الاقوامی سطح پرسربلندکیااس وقت کویت کی ایشیامیں دونمبر ٹوریکنگ ہے اورہمارے بچے اوربچیاں بہت تیزی سے اوپرجارہی ہے جلدہی عالمی سطح پربھی کویتی کھلاڑی نمایاں دکھائی دینگے ۔انہوںنے بتایاکہ کویت کی قومی جونیئر وسنیئر ٹیموں میں پاکستان کے سینکڑوںبچے وہاں سے کھیل رہے ہیں خودمیرے بھتیجے قدیر گل وہاں کے,انڈر اور فہد خان انڈر 11 کیطلال گل انڈر 11کے چیمپین۔ہیں۔یہ سب وہاں کے ییدائشی اورنواں کلی پشاورسے تعلق رکھتے ہیں جبکہ دیگرپاکستانی بچے بھی انڈر17-15-13 جیت چکے ہیں جبکہ ان کے علاوہ کویتی بچے بھی میری کوچنگ مین امریکہ ،یورپ اوررایشین مقابلے جیسے قطراوپن،ملائشیا اوپن وغیرہ جیت چکے ہیںانہوںنے بتایاکہ پاکستان سکواش فیڈریشن مجھے مکمل بااختیار کوچ کے تعینات کرتی ہے اورمیری ہدایت پرعمل کرتی ہے توایک دوسال میںرزلٹ نہ دسکاتوسب جرمانہ وسزا فیڈریشن دے مجھے منظورہے انہوںنے کہاکہ باوجود اس کے مین کویت حکومت کی نوکری،لاکھوں کویتی دینار کی تنخواہ،پرآسائش زندگی دنیابھر کے وی وی آی پی ٹورز اورسب کچھ پاکستان کے لیے چھوڑ نے کے لیے تیارہوں۔صرف اورصرف اپنے ۔۔۔وطن کی محبت میں۔

1 تبصرہ. Leave new

  • Abdul Nasir Advocate
    فروری 10, 2025 4:32 صبح

    This totally lying, these squash coaches decamped from Pakistan for Dollars and Dinnar to other countries and left Pakistan in 1992,vehrn Pakistani players were on the top ranking of the world, when these coaches left Pakistan helplesly,all the juniors players failed to become good players in the world. Now at the moment this person is retired from coaching due to his different illness and Kuwait also terminated gis job, then now they remember Pakistan. All thr seniors Coach doesn’t like other coaches in squash. These people are now harmful for not only coaching but for juniors.

    جواب دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed