عوام جن مالی مشکلات سے گزر رہے ہیں اس پر زیادہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ شہریوں کی آمدن کے مقابلے میں ان کے اخراجات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں جس کیوجہ سے ان کا گز ر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ ادھر قومی ا کا ئونٹس کمیٹی کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے اعداد و شمار بھی عوام کی ان تکالیف کی تصدیق کرتے ہیں۔ مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق ڈالر کے لحاظ سے ملک میں فی کس آمدنی مالی سال 23 20 ء میں 1,568 ڈالر تک گر گئی جو مالی سال 2022 ء میں 1,766 ڈالر اور مالی سال 2021 ء میں 1,677 ڈالر تھی جو کہ ذاتی آمدنی میں تیزی سے کمی اور زندگی کے گرتے معیار کی نشاندہی کرتی ہے۔ علاوہ ازیں معیشت کے سست چکر کی طرف اشارہ کرنے والا ایک اور عنصر جس کا براہ راست اثر لوگوں کی آمدن پر پڑتا ہے جاری مالی سال کے لیے غیر معمولی طور پر کم جی ڈی پی کی شرح نمو ہے جس کا تخمینہ 0.29 فیصد ہے جو پچھلے سال کے حاصل کردہ 6.1 فیصد کے مقابلے میں تیزی سے گراوٹ ظاہر کر رہا ہے۔ اگر موجودہ حکومت پی ٹی آئی کی سابق حکومت کو اس صورت حال کی ذمہ دار ٹہرا تی مگر خود اتحادی حکومت کی کارکردگی بھی مثالی نہیں ہے ۔ موجودہ حکومت کے دوران معیشت کی اس طرح کی مایوس کن حالت کا سبب بننے والے عوامل میں تاریخی طور پر 21% کی بلند شرح سود بھی شامل ہے جس نے کام کرنے والے سرمائے کو انتہائی مہنگا اور کاروبار میں توسیع کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔ اس کے بعد ڈالر کی اونچی اڑان ہے جس نے خام مال کی درآمد کو خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے لیے ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ مزید برآںمہنگی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے اعلیٰ نرخوں نے کاروبار کرنے کی لاگت میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔ ان حالات میںیہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ زیادہ سے زیادہ تاجر یا تو کاروبار بند کر رہے ہیں یا پھر اخراجات کم کرنے کے لئے عملے کو فارغ کر رہے ہیں جس سے ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔علاوہ ازیں اس غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کرنے والا ایک بڑا عنصر عالمی مالیاتی ادارے کا وہ رکاوٹیں ڈالنے والا معاہدہ ہے جس پر گزشتہ سال اپریل میں پی ڈی ایم مخلوط حکومت کے آنے کے بعد سے بات چیت کی جا رہی ہے اور اب جب کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام 30 جون کو محدود وقت کی وجہ سے بحالی کے بغیر ختم ہو سکتا ہے اور کاروباری حضرات سے ان مشکلات کے لیے معذرت خواہ ہیں جن کا سامنا انہیں انتہائی مشکل معاشی صورتحال کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے ان حالات سے کاروباری تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ شاید بڑھتے ہوئے مالیاتی ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے حکومت کوئی متبادل منصوبہ اپنانے جا رہی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ وہ منصوبہ کیا ہے ۔ اگر واقعی حکومت کوئی ایسا منصوبہ رکھتی ہے تو اس کو جلد ازجلد سامنے لایا جائے تاکہ تاجروں و کاروباری حضرات سمیت تمام معاشی حصہ دار ابھی سے اپنی تیاریاں کر سکیں کہ مستقبل میں انہیں کن خطوط پر چلنا ہے ۔حکمرانوں کو یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ عوام اور کاروباری حضرات عرصہ دراز سے آئی ایم ایف کی آلودگی سے پاک کسی بہترین قومی اقتصادی پالیسی کا نتظا کر رہے ہیں جو تاحال کسی بھی حکومت نے پیش نہیں کی مگر امید ہے اس بار حکومت عوام کو مایوس نہیں کرے گی۔md.daud78@gmail.com







