پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز کی سالانہ کانفرنس اختتام پذیر

پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز (PAUS) کی سالانہ کانفرنس شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی، جس میں 1700 سے زائد مندوبین، جبکہ 50 بین الاقوامی فیکلٹی ممبران اور ماہرین نے شرکت کی۔ تین روزہ کانفرنس کے دوران علمی، سائنسی اور تحقیقی سرگرمیوں کا بھرپور اہتمام کیا گیا۔کانفرنس کے دوران 10 پری کانفرنس ورکشاپس اور 14 علمی و تحقیقی سیشنز منعقد ہوئے، جن میں یورولوجی کے شعبے میں جدید پیش رفت، پیشہ ورانہ تربیت اور علمی تبادلہ خیال پر توجہ دی گئی۔ پروگرام میں پاکستان یورولوجی لیگ کے مقابلوں کے سیمی فائنل اور فائنل بھی شامل تھے، جبکہ ماہر سرجنز نے جدید یورولوجیکل طریقہ ہائے علاج اور مہارتوں سے متعلق ویڈیو سیشنز کے ذریعے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ لیڈرشپ، پیشہ ورانہ رہنمائی، کیریئر کونسلنگ، تدریس، تربیت، جائزہ اور امراض یورولوجی سے بچاؤ کے حوالے سے خصوصی نشستیں بھی منعقد ہوئیں۔کانفرنس کا تحقیقی پہلو بھی خصوصی اہمیت کا حامل رہا، جہاں مجموعی طور پر 1642 تحقیقی مقالے اور خلاصے موصول ہوئے، جن پر 12 تفصیلی تحقیقی سیشنز منعقد کئے گئے۔ 50 قومی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل جیوری نے تحقیقی کاموں کا جائزہ لیا۔ اسی طرح یورولوجی کے شعبے میں 66 تحقیقی تجاویز میں سے 10 بہترین تحقیقی خاکوں کو مقابلے کے لئے منتخب کیا گیا۔علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی مندوبین کے لئے مختلف سماجی و ثقافتی تقریبات کا بھی اہتمام کیا گیا۔ غیر ملکی ماہرین کو پشاور اور اس کے گردونواح کے تاریخی و سیاحتی مقامات کی سیر کرائی گئی۔ فیکلٹی ممبران کے اعزاز میں فاریسٹ کالج کے لان میں عشائیہ دیا گیا، جبکہ ایک مقامی ریسٹورنٹ میں گرینڈ گالا ڈنر اور ثقافتی موسیقی کی محفل بھی منعقد ہوئی، جس میں مقامی میوزیکل بینڈ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔کانفرنس کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی تھے۔ اس موقع پر کانفرنس کے منتظمین، تحقیقی ایوارڈز کے حقداروں اور بہترین تحقیقی مقالے پیش کرنے والے تین شرکاء میں اعزازات اور شیلڈز تقسیم کی گئیں۔تقریب کا ایک اہم حصہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شمیم خان کو شعبہ یورولوجی کے فروغ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر اس شعبے کی ترقی کے لئے طویل، انتھک اور گراں قدر خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کرنا تھا۔اختتامی تقریب کے دوران پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا.کانفرنس کی آرگنائزنگ اینڈ سائنٹیفک کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی نے سالانہ کانفرنس کو کامیاب بنانے پر تمام شرکاء، قومی و بین الاقوامی فیکلٹی ممبران، مقررین، محققین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کی علمی و تحقیقی سرگرمیاں شعبہ یورولوجی میں پیشہ ورانہ مہارت، تحقیق اور طبی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ مشکل حالات میں، جب غیر ملکی شہری پشاور کا دورہ کرنے سے گریزاں ہیں، اس بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد نے خیبر پختونخوا کا ایک مثبت، پرامن اور خوشگوار تشخص عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed