خیبرپختونخوا میں ضروری اور اضافی ادویات کے لیے مختص بجٹ سے 1 ارب 11 کروڑ 91 لاکھ 35 ہزار روپے مالیت کے ڈسپوزیبل دستانوں کی غیر معمولی خریداری کا معاملے سامنے آنے پر محکمہ اینٹی کرپشن متحرک ہو گیا ہے۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر محسن حبیب کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ سروسز کو باضابطہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے 7 روز کے اندر تمام متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ادویات کی مد میں حاصل فنڈز سے 43 کروڑ 98 لاکھ 40 ہزار جوڑے امتحانی دستانے خریدے گئے، جو کہ اضافی ادویات کے بجٹ کا تقریباً 35 فیصد حصہ بنتا ہے۔ اینٹی کرپشن کے مراسلے کے مطابق ادویات کے بجائے دستانوں کی اتنی بڑی مقدار میں خریداری اصل مقصد سے انحراف ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صوبے کے سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) میں مریض ادویات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز 1999 کے رول 3(3) کے تحت جاری کردہ اس مراسلے میں بجٹ ریلیز آرڈرز، ٹینڈر دستاویزات، تقابلی گوشوارے، اسٹاک رجسٹرز اور انتظامی منظوریوں کا مکمل تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔ مزید برآں، اینٹی کرپشن نے محکمہ صحت کو ہدایت کی ہے کہ کیس کی شفاف جانچ کے لیے گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے افسر کو فوری طور پر فوکل پرسن مقرر کیا جائے۔







