امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں ہونے والے وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے باضابطہ طور پر اپنی شکست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے برتری حاصل کر لی ہے جبکہ حکمران ریپبلکن پارٹی پیچھے رہ گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ خود ان انتخابات کے بیلٹ پیپر پر بطور امیدوار موجود نہیں تھے، اس لیے نتائج ایسے رہے، وگرنہ ان کی موجودگی میں جماعت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ ایوان میں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور امیگریشن جیسے اہم امور پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر اپوزیشن کی جانب سے غیر مناسب تجاویز پیش کی گئیں تو وہ انہیں ویٹو کر دیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے فی الحال اپنی کابینہ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا امکان بھی مسترد کر دیا۔
انتخابی اعداد و شمار کے مطابق 435 رکنی ایوانِ نمائندگان میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں، جہاں ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو نمایاں برتری حاصل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے سادہ اکثریت کے لیے ضروری 51 نشستوں کی حد کو چھو لیا ہے، جبکہ ریپبلکنز فی الوقت 39 نشستوں تک محدود ہیں۔ ڈیموکریٹس کو کانگریس کا کنٹرول ملنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مختلف معاملے پر باضابطہ تحقیقات کے آغاز کا قوی امکان ہے۔







