پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں رکاوٹ بننے والے سہولت کار اب موجود نہیں رہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ تعاون سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے جا رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی قیادت، تربیتی مراکزی کیمپ اور حملوں کی منصوبہ بندی کے اڈے موجود ہیں، تاہم دہشت گردی سے جڑے کچھ مسائل کو اندرونی سطح پر حل کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے اندر سے دہشت گردوں اور ان کے تمام تر سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ ہماری واضح حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے باعث سب سے زیادہ مصائب کا سامنا کیا ہے۔ پشتون ایک باوقار اور اپنی روایات پر فخر کرنے والی قوم ہے اور صوبے کے غیور عوام امن و استحکام کے طالب ہیں، جو ان کا بنیادی حق ہے۔







