چیئرمین پاکستان علما ء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ریاست اور شہدا ء کے حوالے سے بیانات افسوسناک ہیں، ریاست کے خلاف بیانات سے گریز کریں،حکومت نے انہیں مناسب حصہ نہ دے کر زیادتی کی ہے، حکمرانوں کو چاہیے کہ کوئی بڑی کمیٹی تشکیل دے کر انہیں وفاقی وزیر کے برابر عہدہ، منسٹرز انکلیو میں رہائش اور سرکاری جہاز استعمال کرنے کی سہولت فراہم کریں۔ مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا ہ میں دیگر لوگوں کو حصہ دیا گیا ہے تو مولانا فضل الرحمن کو بھی ان کا حصہ ملنا چاہیے تھا، پہلے انہیں پی ڈی ایم کا صدر بنانے کا وعدہ کیا گیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، بعدازاں انہیں اندازہ ہوا کہ خیبر پختونخوا ہ اور بلوچستان میں ان کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا تو ان کا رویہ تبدیل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ہمارے بزرگ ہیں، ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی، ان کے ساتھیوں کو چاہیے کہ جب ان کا بلڈ پریشر زیادہ ہو تو انہیں تقریر کرنے کے بجائے آرام کروائیں، سنا ہے وہ ایک وقت میں دس سے بارہ گولیاں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن کے فون بھی اٹھایا کریں اور ان کے ساتھ معاملات بہتر بنائیں۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن ریاست کے خلاف بات کرنے سے گریز کریں کیونکہ آئین ان کے والد مفتی محمود نے بنایا تھا۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، جو اپنے بچوں کی پرورش بھی کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کی اصلاح کے لیے سختی بھی کرتی ہے، ریاست کے پاس پیار اور ڈنڈے دونوں کے آپشن موجود ہوتے ہیں،ماں بچوں کو پالتی ہے جو بچہ مان کا نافرمان ہوجائے تو مان اس کا علاج بھی کرلیتی ہے،ماں مولانا فضل الرحمن کو راضی کرنا جانتی ہے،مولانا جہاں کھڑے ہیں وہ ریاست کا دیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور شہدا ء پوری قوم کی ریڈ لائن ہیں، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور وزارت خارجہ ملکی صورتحال اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حرمین شریفین کا تحفظ پوری پاکستانی قوم کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور دہشتگردوں کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ دہشتگرد عناصر سے لاتعلقی اختیار کریں، کیونکہ دہشتگرد بلوچ بچیوں کو اغوا ء کرکے انہیں بلیک میل اور دہشتگردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ خیبر پختونخوا ہ میں امن و امان کے قیام کے لیے صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مدارس کی رجسٹریشن کا آغاز خوش آئند ہے، تاہم کسی مسجد یا مدرسے کو غیر قانونی طور پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے







