مولانا مجھے طعنے نہ دیں’خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں صلح اور بات چیت کیلئے تہران گئے، ایران میں میری موجودگی ضروری نہ تھی، وہاں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا ،مولانا فضل الرحمان جب مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، یہاں کسی پارٹی نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، انہوں نے مذہب کے نام پر کمائیاں کی ہوئی ہیں ۔جمعرات کو قومی اسمبلی اجلا س میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکمران ہوں یا دیگر، تمام سوالات کا مکمل احترام کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے مختلف طرزِ عمل پر تبصرہ کیا، مولانا فضل الرحمان نے مجھ پر بھی بھرپور تبصرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ سال فتح کے بعد بات چیت کا کردار ادا کیا، فیلڈ مارشل نے خطے میں مذاکرات کیلئے کردار ادا کیا، خطے میں صلح اور بات چیت کے لیے تہران گئے، امن کے قیام کیلئے ہمیشہ بات چیت کو اہمیت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ تہران میں کسی متعلقہ معاہدے پر کوئی بات نہیں ہو رہی تھی، تہران میں میری موجودگی ضروری نہیں تھی، مولانا فضل الرحمان کے اٹھائے گئے سوالات کا سوچا تھا کہ جواب دوں گا، تہران میں ہونے والی میٹنگ وزارتِ دفاع سے متعلق نہیں تھی۔وزیر دفاع نے کہا کہ تہران میں سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف آئے تھے، وزیر دفاع نہیں، عالمی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہا جانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں کوئی ایسی پارٹی نہیں جس سے اختلاف اور تعاون دونوں نہ رہے ہوں، مجھ پر جو نکتہ چینی کی گئی، وہ غلط جگہ پر کی گئی، مولانا فضل الرحمان نے میرے لحاظ سے جو تحفظات کا اظہار کیا، اس کا مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا پاکستان کی سیاست میں اہم مقام ہے جس کا احترام کیا جاتا ہے، اعتراضات بھی سیاست کا حصہ ہیں، پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارے بہت سے اختلافات رہے ہیں، اختلافات پسِ پشت ڈال کر جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں جب بول رہا ہوتا ہوں تو میرے دماغ میں اپنی کہی ہوئی باتیں رہتی ہیں، میں واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی پر معذرت کی، جب ہائبرڈ سسٹم سے متعلق بات کرتا ہوں تو مجھے میری ماضی کی تقریر یاد کرائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ مجھے شرم کرنے کا کہتے ہیں تو خود بھی سوچ لیا کریں، ماضی میں مولانا فضل الرحمان حکومتوں کا حصہ بھی رہے ہیں، آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں کچھ شرم کرو ، حیا کرو، آپ بھی تو کچھ شرم کریں ، حیا کریں، آپ کون سا آبِ زم زم سے دھلے ہیں، یہاں کوئی بھی اس بات کا دعوی نہیں کر سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed