سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصر کی پارلیمنٹ نے فوجی مدد کی منظوری دے دی

مصر کی پارلیمنٹ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے باقاعدہ فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کے بعد مصر کے اس علاقائی تنازع میں براہِ راست شامل ہونے کا امکا ن بہت حد تک بڑھ گیا ہے، کیونکہ ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے اہم اہداف اور آئل تنصیبات پر حملوں میں مسلسل شدت دیکھی جا رہی ہے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر خلیجی اتحادی اور دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی جانب سے مدد مانگی جائے تو مصر کو اس کے دفاع کے لیے تعاون کی اجازت ہونی چاہیے۔ حوثیوں کی پیش قدمی کے باعث بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم ترین بحری گزرگاہ "باب المندب” کو شدید خطرات لاحق ہیں، جو مصر کی نہرِ سویز تک رسائی اور بین الاقوامی تجارت و تیل کی ترسیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔مصر ماضی میں خلیجی ممالک پر ایران اور اس کی حمایت یافتہ تنظیموں کے حملوں کی شدید مذمت کرتا رہا ہے، تاہم اس نے اب تک براہِ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا تھا۔ دوسری جانب ایران کی طرف سے مصر کو خبردار کیا گیا تھا کہ یمن کی جنگ میں کسی بھی ملک کی شمولیت سے اس کا دائرہ کار مزید پھیل جائے گا۔ واضح رہے کہ حوثیوں نے بحری ناکہ بندی کے دوران سعودی عرب کے مختلف شہروں میں آئل تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں اب تک متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed