گائوں بادیزئی میں یونیسف کے تعاون سے جاری مثالی گائوں منصوبے کے تحت محلہ شیخان کے اجتماعی مسائل اور بنیادی ضروریات کے حل کے لیے منعقدہ اجلاس میں مفت طبی کیمپ کے انعقاد، صفائی ستھرائی کے بہتر انتظامات، پرائمری سکول میں مزید تعمیرات اور سہولیات کی فراہمی سمیت بچیوں کے لیے ہائی سکول کے قیام کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر عملی اقدامات اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مثر رابطہ کاری ضروری ہے۔اجلاس کے دوران گاں میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صاف ستھرا ماحول بچوں اور عوام کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے گلی محلوں، سکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر صفائی کے باقاعدہ انتظامات کیے جائیں اور مقامی آبادی میں صفائی کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے۔ اس موقع پر صاف پانی، صحت کی سہولیات اور بچوں کے تحفظ سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔اجلاس میں بچوں کے حقوق کے تحفظ، محفوظ ماحول کی فراہمی اور مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کو مثر بنانے کے لیے کمیونٹی کمیٹیوں کی تشکیل و بحالی اور تربیت پر بھی زور دیا گیا۔ کمیونٹی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی، کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ گاں کی سطح پر بچوں کے لیے دوستانہ، محفوظ اور صحت مند ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔کمیونٹی کے فیصلے کے مطابق فرحان اللہ کو صدر اور عامر اللہ کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا، جبکہ ایگزیکٹو کونسل کے لیے واجد خان اور حفیظ اللہ کو منتخب کیا گیا۔ کمیٹی کی تشکیل کا مقصد گاں میں بچوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی، ان کے حل کے لیے منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کو مثر بنانا ہے۔اجلاس میں یونیسف ویلفیئر کے بلال برکی اور الیاس خان، ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر نیوٹریشن احمد علی اور ہیومن اپیل کے شاہ جی گل نے شرکت کی۔ شرکا نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور کمیونٹی کی ترقی کے لیے باہمی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور مقامی آبادی کی شمولیت کو اہم قرار دیا۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کمیونٹی کمیٹی بچوں کی تعلیم، صحت، صفائی ستھرائی، صاف پانی اور تحفظ سے متعلق مسائل کو متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ شرکا کے مطابق مقامی آبادی کی فعال شرکت، ترقیاتی سرگرمیوں کی نگرانی اور اداروں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے گاں بادیزئی کو بچوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور دوستانہ مثالی گاں بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔







