وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پانی پاکستان کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کی جانب سے پانی روکا گیا تو اسے کھلم کھلا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا اور پاکستان پانی کو کسی صورت بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، تجارت اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دو سالوں میں باہمی تجارت کو موجودہ 1 کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مالدیپ کے لیے مختلف رفاہی و ترقیاتی اقدامات کا اعلان بھی کیا، جن میں مالدیپی طلبہ کے لیے سالانہ 20 انڈرگریجویٹ اسکالرشپس، غذائی اشیا و ادویات کی فراہمی اور ‘فائیو ملین ٹریز’ منصوبے کے تحت ایک لاکھ زیتون کے پودے اور پودوں کے نرسری ماہرین کی معاونت شامل ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس آمد پر مالدیپ کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔







