گورنر کا سکیورٹی بارے اجلاس جمہوریت پر حملہ ہے’ صوبائی کابینہ

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گورنر کی جانب سے گزشتہ روز منعقد کیا جانے والا اجلاس انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے اور صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ گورنر کا چیف سیکرٹری اور آئی جی کو طلب کرنا اور اس نوعیت کا اجلاس منعقد کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ دو تہائی اکثریت کی حامل صوبائی حکومت کی موجودگی میں اس طرح کا اجلاس کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے اور اس کے لیے عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور کسی ایسے ردعمل پر مجبور کرنا ہے جس سے حالات خراب ہوں، تاہم ہم پرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی غلط کردار ادا کر چکی ہے، موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ماضی میں ذاتی مفادات کے لیے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کیا۔ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے۔ پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔ 22 سال میں 14 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور 22 بڑے ملٹری آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا۔ 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی کے باوجود امن کا مسئلہ برقرار رہنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت دہشتگردی کے خلاف واقعی سنجیدہ ہے تو اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ خیبرپختونخوا کے تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں، کیونکہ بلوچستان میں وفاق کے ساتھ تعاون کے باوجود وہاں بھی امن قائم نہیں ہو سکا۔ اس سے واضح ہے کہ وفاق کی موجودہ پالیسی نہ خیبرپختونخوا میں مثر ہے اور نہ بلوچستان میں۔ وزیراعلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ دہشتگردی کا مقابلہ بھی کرنا ہے اور وفاق کی غلط پالیسیوں سے پیدا ہونے والے حالات کا بھی سامنا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے۔ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس پاکستان میں موجود کسی بھی پولیس فورس کے مقابلے میں جدید ترین اسلحہ اور آلات موجود ہیں۔ سی ٹی ڈی کے انفراسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری اور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔ 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا لیکن آج تک ان کا مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا۔ قبائلی اضلاع کے وہ مالی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے جو انضمام کے وقت طے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مسلسل خیبرپختونخوا پر ملٹری آپریشن مسلط کرتی رہی ہے۔ وفاق کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لوگ سڑکوں پر روتے رہے لیکن انہیں آج تک معاوضہ نہیں ملا۔ قبائلی اضلاع کے متاثرین کے تقریبا 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ جن لوگوں کے گھر اجڑے، گھرانے متاثر ہوئے اور مساجد شہید ہوئیں، وہ آج بھی اپنے معاوضوں کے لیے دربدر ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed