شاور ہائیکورٹ کے فاضل دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی شامل ہیں، نے ہری پور کے ضمنی الیکشن کے دوران سرکاری افسران کو مبینہ طور پر ہراساں و دھمکانے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو جاری نوٹس کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ عدالتِ عالیہ نے وزیراعلیٰ کے دفاعی وکلاء کو کیس کی تیاری اور پیشی کے لیے آخری موقع فراہم کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر التواء کی کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔سماعت کے دوران وزیراعلیٰ کے نو منتخب وکیل بیرسٹر سرور مظفر شاہ نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے آج ہی وکالت نامہ جمع کرایا ہے، لہٰذا مقدمے کی تیاری کے لیے عدالت سے وقت دینے کی استدعا کی، جس پر جسٹس سید ارشد علی نے برہمی کا اظہار کیا۔ الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل لاء خرم ذیشان نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی شدید مخالفت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ درخواست گزار کی استدعا پر اس کیس کی سماعت پہلے ہی چھ مرتبہ ملتوی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے بھی کیس کی میرٹ پر سماعت مکمل ہو چکی ہے جہاں کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا، جس کی بنا پر یہ درخواست اب ناقابلِ سماعت ہے۔عدالتِ عالیہ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد وزیراعلیٰ کے کونسل کو حتمی مہلت دیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اگر آئندہ تاریخ پر درخواست گزار کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا تو عدالت دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں قانون کے مطابق حتمی فیصلہ صادر کر دے گی۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت ۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔







