پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجازانور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پشاور میں تعینات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے 7 افسران کی تنخواہیں روکنے اور انہیں مستقل نہ کرنے کے خلاف دائر رٹ پر تمام افسران کی تنخواہیں فوری طور پر جاری کرنے کے احکامات جاری کردیئے اور وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی رپورٹ جمع کریں ۔دو رکنی بنچ نے گزشتہ روز خالد رحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر مدثرشاہ، فیصل طارق سمیت سات دیگر درخواست گزاروں کی رٹ کی سماعت کی ۔رٹ میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 2012 میں ایف ائی اے کے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی ونگ میں گریڈ 17 میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوئے اور مختلف مواقعوں پر اہم کاروائیوں میں حصہ لیکر ملزمان کی گرفتاری کی تاہم انہیں مستقل نہیں کیا جا رہا اور انہیں ابھی تک کنٹریکٹ پر رکھا گیا ہے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ 14 سال تک اپنی زندگی کے اہم سال دینے والے افسران کے ساتھ اب امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے چار سو سے زائد افسران پورے ملک میں کنٹریکٹ پر ہیں اور اب متعلقہ حکام ان کو مستقل کرنے کی بجائے دیگر محکموں سے افسران کو ڈیپوٹیشن پر لا رہے ہیں جو کہ درست نہیں ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ 2020 میں اسلام اباد ہائیکورٹ نے ایف ائی اے کے اس وقت کے حکام نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی سروس مستقل ہے اور کنٹریکٹ نہیں تاہم ابھی تک انہیں مستقل نہیں کیا جا رہا اور اب تو ان کی تین ماہ سے تنخواہ بھی بند کردی گئی ہے جس کے وجہ سے انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ملک کے ایک اہم ادارے کے ملازمین غیر یقینی صورت حال میں کس طرح کام کریں گے اور آج کل اس ادارے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے جبکہ دیگر جونیئر افسران کو تو مراعات حاصل ہیں مگر 14 سال ان پوسٹوں پر کام کرنے والے اب بھی اپنی مستقلی کے لئے خوار ہو رہے ہیں جس سے اس ادارے کی ساکھ خراب ہوگی ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک ان کے رولز نہیں بنائے جس کی وجہ سے انکی مستقلی روکی ہوئی ہے کیونکہ اسلام اباد ہائیکورٹ نے انہیں ہدایت کی تھی کہ فیڈرل پبلک پبلک سروس کمیشن کے زریعے ان کی مستقلی کے عمل کو مکمل کیا جائے تاہم ابھی تک اس میں کوئی پش رفت نہیں ہوئی اور یہ افسران اب بھی کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ان کی تین مہینے کی تنخواہ روک دی گئی ہے ۔عدالت نے اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ان ملازمین کی تنخواہ فوری طور پر جاری کی جائیں اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔







