خیبر پختونخوا میں انسداد دہشتگردی کے حوالے سے جاری بیان پر مزمل اسلم کا عطا تارڑ کو جواب، وفاقی وزیر اطلاعات کو بنیادی معلومات سے آگاہ ہونے کا مشورہ دے دیا۔خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے سکیورٹی اور پولیس بجٹ کے اعداد و شمار پیش کر دیئے۔مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی نیشنل ایکشن پلان کے بعد خیبرپختونخوا کا اپنا صوبائی ایکشن پلان موجود ہے، جبکہ وزیراعلی کسی بھی صورت نیشنل ایکشن پلان کی سربراہی نہیں کرتے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عطا تارڑ کو بنیادی معلومات اور حقائق سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے، ان کے مطابق قومی میڈیا پر آنے سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات کو اپنے حقائق درست کرلینے چاہئیں۔عطا تارڑ نے 28 ستمبر کو ایک پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف موثراقدامات نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے مختص وسائل کے استعمال کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔مشیر خزانہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے بجٹ کا تقریبا 10 فیصد سکیورٹی کے لیے مختص ہے اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں صوبے کا سکیورٹی بجٹ نمایاں طور پر زیادہ ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ تین سال کے دوران خیبرپختونخوا کا سکیورٹی بجٹ 65 ارب روپے سے بڑھ کر 190 ارب روپے ہوگیا ہے، خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی پر سب سے زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے۔مشیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کے موجودہ بجٹ میں مالی سال 2024-25 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔صوبائی حکومت کے بجٹ سے متعلق سرکاری معلومات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پولیس کے لیے تقریبا 191.393 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مزمل اسلم نے بتایا کہ پولیس کا آپریشنل بجٹ دو سال کے دوران 15.1 ارب روپے سے بڑھ کر 30.2 ارب روپے ہوگیا۔ مزمل اسلم کے مطابق 22 ستمبر تک پولیس کے موجودہ بجٹ سے 137.8 ارب روپے جاری کیے جاچکے تھے، جو موجودہ بجٹ کا 79.2 فیصد بنتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کے ترقیاتی بجٹ کے 97.4 فیصد فنڈز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔مشیر خزانہ کے مطابق پولیس کے لیے آلات، گاڑیوں اور مشینری پر اخراجات بھی 3.3 ارب روپے سے بڑھ کر 14.5 ارب روپے ہوگئے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ 2024-25 کے بعد خیبرپختونخوا پولیس میں 3,050 نئی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے، ان کے مطابق پولیس کی منظور شدہ نفری 136,268 سے بڑھ کر 139,318 ہوگئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جولائی 2026 سے پولیس اہلکاروں کے رسک الانس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے حالیہ بیانات میں خیبرپختونخوا حکومت سے انسداد دہشت گردی کے لیے مختص وسائل کے استعمال کی تفصیلات مانگی ہیں، جبکہ مزمل اسلم نے صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اور پولیس بجٹ میں اضافے کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر کے موقف پر اعتراض کیا ہے۔







