خیبرپختونخوا کو اعتماد میں لئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا’ سہیل آفریدی

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتال میں عیادت کی۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلی کو زخمیوں کو فراہم کیے جانے والے علاج معالجے اور ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بعد ازاں وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے الامین ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے، جس میں ہمارے کئی جوان اور عام شہری شہید ہوئے۔ اس بزدلانہ حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجیم چینج آپریشن کے بعد ہمارے تمام سابقہ بیانات اور موقف اٹھا کر دیکھ لیے جائیں۔ جب ایک پالیسی کے تحت خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشت گردی لائی جا رہی تھی تو ہم نے پورے صوبے میں امن پاسون کیے، عوام کے درمیان گئے اور مسلسل آواز اٹھائی کہ ایک بار پھر پختونوں کے سروں کا سودا کیا جا رہا ہے، ایک بار پھر خیبرپختونخوا لہو لہان ہوگا اور ایک بار پھر ہمارے صوبے پر دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ اس وقت ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرنے والے یہی لوگ کہتے تھے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں اور پروپیگنڈا کر رہے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن خطرہ ان لوگوں پر نہیں تھا، خطرہ مجھ پر، میرے عوام پر اور ہمارے صوبے پر تھا۔ اسی لیے ہم پہلے سے ان حالات کو دیکھ رہے تھے اور مسلسل چیخ چیخ کر عوام اور حکمرانوں کو خبردار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف خیبرپختونخوا کا نوجوان شہید نہیں ہو رہا بلکہ پاکستان کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھنے والا فوجی جوان بھی یہاں شہید ہو رہا ہے، ہمارا پولیس جوان بھی شہید ہو رہا ہے اور ہمارے عام شہری بھی شہید ہو رہے ہیں۔ یہ سب ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہم میں سے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی صوبے، کسی بھی فرقے یا کسی بھی وردی سے ہو۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ہر ایسی پالیسی پر تنقید کی ہے جس سے عوام اور پاکستان کو نقصان پہنچتا ہو۔ بند کمروں میں بننے والی پالیسیوں پر ہماری تنقید کسی سیٹ یا کرسی کی محتاج نہیں۔ خیبرپختونخوا کا ہر شہری اور ہر نوجوان اس کھیل کو سمجھتا ہے، اسے معلوم ہے کہ یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور اس کا نقصان کس کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق میں جو حکومت مسلط ہے اور پنجاب میں جنہیں حکومت دی گئی ہے، ان کے نمائندوں کے بیانات ہی ان کی سنجیدگی واضح کرنے کیلئے کافی ہیں۔ پنجاب کی جعلی وزیراعلی یہ بیان دیتی ہیں کہ ہمیں بھارت سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ خطرہ باقی تین صوبوں سے ہے، جبکہ ان کے ایک وزیر یہ بیان دیتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے لوگ دہشت گرد ہیں۔ ان کے دیگر نمائندے ٹی وی پر بیٹھ کر اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ ان کی سنجیدگی اپنی جگہ، ہماری سنجیدگی سب کے سامنے ہے۔ ہماری سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت سنبھالتے ہی ہم نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے 35 ارب روپے امن و امان کیلئے دئیے تاکہ ایک طرف ضروری وسائل دستیاب ہوں اور دوسری طرف متعلقہ ادارے اپنا انفراسٹرکچر اور استعداد کار بہتر بنا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے امن کی قدر ہے۔ ہم خیبرپختونخوا کے لوگ ہیں، ہمارے بچے، بوڑھے، جوان، مائیں اور بہنیں شہید ہو رہی ہیں، ہمیں اس صورتحال کا احساس ہے۔ اسی لیے مالی سال 2026-27 میں خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد زیادہ ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم پولیس کے بجٹ میں اتنا بڑا اضافہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جب تک امن نہیں آئے گا، اس وقت تک ترقی نہیں آئے گی اور خوشحالی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) ایک وفاقی ادارہ ہے اور خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ سال اپنے آلات منگوانے کے لیے اس ادارے کو ادائیگی کی تھی، لیکن ادائیگی کے باوجود ہمیں تاحال مطلوبہ سامان فراہم نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعلی نے کہا کہ نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) بھی وفاقی ادارہ ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed