عدم پیروی پر شوکت یوسفزئی کی ہرجانہ اپیل پشاور ہائیکورٹ سے مسترد

پشاور ہائیکورٹ نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سابق مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کے حق میں ہرجانے کے کیس کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کی اپیل عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی ہے۔ اس اپیل کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس وقار احمد نے کی۔معاملے کے مطابق شوکت یوسفزئی نے متعلقہ زیریں عدالت کی جانب سے اسفندیار ولی خان کے حق میں دیے گئے ہرجانے کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں اپیل کے ذریعے چیلنج کر رکھا تھا۔ سماعت کے دوران اسفندیار ولی خان کی طرف سے ان کے قانونی کونسل طارق افغان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ تاہم عدالت کی جانب سے متعدد بار پکارے جانے کے باوجود اپیل کنندہ شوکت یوسفزئی یا ان کے وکیل میں سے کوئی بھی عدالت عالیہ کے سامنے حاضر نہیں ہوا۔جسٹس وقار احمد نے اپنے تحریری حکم نامے میں تحریر کیا کہ مقدمے کو بار بار آواز دی گئی، لیکن اپیل کنندہ یا ان کی جانب سے وکیل کی غیر حاضری اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس کیس کی آگے پیروی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں اس اپیل کو مزید التوا میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہتا، لہذا اسے عدم پیروی پر مسترد کیا جاتا ہے۔ اس فیصلہ کے ساتھ ہی اسفندیار ولی کے حق میں ہرجانے کا تحریری فیصلہ برقرار رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed