علیمہ خان کی نظر بندی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں کے گھروں پر مبینہ چھاپوں کے خلاف لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹس میں دائر درخواستوں پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی نظر بندی کے خلاف درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے مزید دلائل طلب کرلیے اور سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔
یہ درخواست علیمہ خان کے بیٹے شاہ زیر کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس پر جسٹس عبہر گل خان نے سماعت کی۔ درخواست میں علیمہ خان کی نظر بندی کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا نظر بندی کے معاملے پر متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا گیا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ دیگر کیسز سے مختلف ہے۔
وکیل کے مطابق ایک ہی تاریخ کو ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور اسی روز نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بظاہر پہلے گرفتاری عمل میں لائی گئی، اس کے بعد کمیٹی کا اجلاس ہوا اور پھر نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
عدالت نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق مزید دلائل طلب کیے اور سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر 30 روز کے لیے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر مبینہ چھاپوں کے خلاف درخواست پر جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی۔
ملک عامر، شعیب شاہین اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پولیس مبینہ طور پر کسی مجاز اتھارٹی کے حکم کے بغیر گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو گھروں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے سے روکا جائے۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کو 24 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
یہ پیش رفت پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج اور اسلام آباد مارچ کی کال کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روز کے لیے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔







