
تحریر: آوردین محسود
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی پٹرولیم ریلیف اسکیم خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع، بالخصوص شمالی و جنوبی وزیرستان اور دیگر آپریشن سے متاثرہ علاقوں میں عملی مشکلات سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے دیگر حصوں میں شہری حکومتی ریلیف اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیجیٹل سہولیات استعمال کر سکتے ہیں، قبائلی اضلاع کے عوام کو انٹرنیٹ، موبائل سگنلز، کرفیو، سکیورٹی پابندیوں اور آمدورفت کی مشکلات کا سامنا ہے۔
قبائلی اضلاع کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث موبائل سگنلز ہفتوں تک بند رہتے ہیں، جبکہ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی کئی علاقوں میں طویل عرصے سے محدود یا معطل ہے۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، کرم، مہمند، خیبر، باجوڑ اور دیگر حساس علاقوں میں شہریوں کے لیے موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں اگر پٹرولیم ریلیف اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے آن لائن رجسٹریشن، ڈیجیٹل تصدیق یا کسی دوسرے انٹرنیٹ پر مبنی طریقۂ کار کی ضرورت ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان علاقوں کا غریب اور عام شہری اس سہولت تک رسائی کیسے حاصل کرے گا؟
یہ مسئلہ صرف انٹرنیٹ کی بندش تک محدود نہیں بلکہ موجودہ سکیورٹی صورتحال اور کرفیو نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث شہری کئی کئی روز تک اپنے گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں تین، تین اور چار، چار روز تک آمدورفت محدود رہتی ہے، بازار بند ہوتے ہیں اور لوگوں کے لیے ضروری اشیاء کی خریداری بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں پٹرول پمپ تک پہنچنا بھی عام شہری کے لیے ایک اضافی چیلنج بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال حکومت اور متعلقہ حکام سے بنتا ہے کہ جو شہری کئی روز تک کرفیو اور سکیورٹی پابندیوں کے باعث اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، وہ پٹرول پمپ تک کیسے پہنچے گا؟ اگر اس کے علاقے میں موبائل سگنلز بند ہوں، انٹرنیٹ دستیاب نہ ہو اور آمدورفت کے راستے بھی محدود ہوں تو وہ حکومتی ریلیف اسکیم کے طریقۂ کار کو کیسے مکمل کرے گا؟ کیا ایسی صورتحال میں ریلیف کا فائدہ صرف ان علاقوں کے شہریوں تک محدود نہیں ہو جائے گا جہاں انٹرنیٹ، موبائل سروس اور آزادانہ آمدورفت کی سہولت موجود ہے؟
قبائلی اضلاع کے غریب خاندانوں کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی ایک بڑا مالی بوجھ ہیں۔ ان علاقوں میں آبادی بکھری ہوئی ہے، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور بازار تک فاصلے زیادہ ہیں، سڑکوں کی حالت کئی مقامات پر خراب ہے اور سرکاری و نجی بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ اس وجہ سے پٹرول اور ڈیزل یہاں صرف کاروباری ضرورت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ چند روپے فی لیٹر کا ریلیف بھی کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے قابلِ ذکر سہولت ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس ریلیف تک رسائی کے لیے بنیادی مواصلاتی سہولت ہی دستیاب نہ ہو تو اس اسکیم کا مقصد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
قبائلی اضلاع میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا استعمال بھی ایک اہم زمینی حقیقت ہے۔ ان علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ ایسی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں جن کی دستاویزی اور رجسٹریشن کی صورتحال ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔ اگر پٹرولیم ریلیف اسکیم میں گاڑی کی رجسٹریشن، شناخت یا دیگر دستاویزی شرائط اس علاقے کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر عائد کی گئیں تو کئی مستحق شہری عملی طور پر اسکیم سے باہر رہ سکتے ہیں۔ حکومت کو اس پہلو کو بھی خصوصی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اگر کسی علاقے میں اکا دکا وائی فائی، براڈبینڈ یا لینڈ لائن انٹرنیٹ دستیاب بھی ہے تو یہ سہولت پوری آبادی کے لیے متبادل نہیں بن سکتی۔ شمالی و جنوبی وزیرستان کے دور افتادہ علاقوں میں ایسے سینکڑوں مقامات موجود ہیں جہاں موبائل نیٹ ورک یا انٹرنیٹ کی مناسب سہولت دستیاب نہیں۔ بعض مقامات پر موبائل سگنلز سکیورٹی خدشات کے باعث ہفتوں تک بند رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صرف آن لائن نظام پر انحصار کرنا ان شہریوں کے لیے ایک نئی رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے جو پہلے ہی ریاستی سہولیات تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت، متعلقہ وزارتیں، ٹیلی کمیونیکیشن ادارے، ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی حکام قبائلی اضلاع کے زمینی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس اسکیم کے لیے خصوصی طریقۂ کار وضع کریں۔ اگر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مکمل موبائل انٹرنیٹ بحال کرنا ممکن نہیں تو کم از کم حکومتی ریلیف اسکیموں تک رسائی کے لیے محفوظ اور محدود ڈیجیٹل سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو غیر آن لائن طریقۂ کار بھی متعارف کرانا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ، نادرا یا متعلقہ محکموں کے ذریعے خصوصی رجسٹریشن مراکز قائم کیے جائیں، جہاں شہری انٹرنیٹ کے بغیر اپنی رجسٹریشن اور تصدیق مکمل کر سکیں۔ دور افتادہ علاقوں کے لیے موبائل رجسٹریشن ٹیمیں بھی تشکیل دی جا سکتی ہیں، تاکہ لوگوں کو کئی کئی کلومیٹر سفر کرنے یا کرفیو کی خلاف ورزی کے خدشے کے بغیر ریلیف اسکیم تک رسائی حاصل ہو سکے۔
حکومتی ریلیف اسکیم کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، اس لیے اس کے طریقۂ کار کو بھی ملک کے مختلف علاقوں کے زمینی حالات کے مطابق بنانا ضروری ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام پہلے ہی سکیورٹی مسائل، کرفیو، ہفتوں تک موبائل سگنلز کی بندش، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، آمدورفت کی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر انہی رکاوٹوں کے باعث انہیں پٹرولیم ریلیف سے بھی محروم ہونا پڑے تو یہ ایک اہم عوامی مسئلہ بن جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت تمام متاثرہ قبائلی علاقوں کے لیے فوری طور پر خصوصی، شفاف اور قابلِ عمل طریقۂ کار وضع کرے، تاکہ ان علاقوں کے غریب اور مستحق شہری بھی وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ پٹرولیم ریلیف سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں۔ ریلیف کا اعلان صرف کافی نہیں، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ سہولت ان علاقوں کے اس عام شہری تک بھی پہنچے جو انٹرنیٹ، موبائل سگنلز اور آزادانہ آمدورفت جیسی بنیادی سہولیات







