ایبٹ آباد نتھیا گلی میں پاکستان ہائی بلڈ پریشر لیگ کی 29 ویں تین روزہ سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مہلک موذی مرض ہائی بلڈ پریشر کے ملک میں بڑھتے ہوئے مریضوں کی آگاہی کے لئے منعقدہ کانفرنس میں ملک بھر سے 250 سے زاہد ڈاکٹرز اور بین الاقوامی مندوب ویڈیو لنک کے زریعے شریک ہوں گے۔کانفرنس کے پہلے روز پاکستان ہائی بلڈ پریشر لیگ کے بانی پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق ،صدر پروفیسر ڈاکٹر قاضی عبدالصبور ،جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مطیع اللہ ،ڈاکٹر سید یاسر گیلانی ،ڈاکٹر عمر حیات اور ڈاکٹر یوسف داؤد نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی بلڈ پریشر خاموش اور موذی مرض ہے۔اس کی کوئی علامات نہیں ہوتی مرض کے دباؤ کی وجہ سے دل کا عارضہ ، فالج ہونے ،گردے اور بینائی متاثر ہوتی ہے۔اس سے بچاؤ کے لئے طرز زندگی بدل کر اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ملک کی 35 فیصد آبادی اور ہر چوتھا فرد اس مرض میں مبتلا ہو رہا ہے

اور شرح اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔بانی پاکستان ہائی بلڈ پریشر لیگ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق کا مذید کہنا تھا اس موذی مرض سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر میں وزن کم کریں نمک کا کم استعمال، تمباکو نوشی ،الکوحل سے مکمل چھٹکارہ اور جسمانی ورزش کا معمول بنائیں ۔انہوں نے مذید بتایا کہ پاکستان میں 29 فیصد 15 سال سے کم اور شہری علاقوں میں 35 فیصد لوگ اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ دنیا میں دو تہائی مریض غریب ممالک سے ہیں۔مغربی ممالک میں شہریوں نے ورزش اور خوراک سے بلڈ پریشر کو قابو کیا جب کہ ساؤتھ ایشیا کے ممالک انڈیا ،بنگلہ دیش اور پاکستان میں اس مرض کے مریض ذیادہ ہیں۔صدر پاکستان ہائی پوٹینسی لیگ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر قاضی عبدالصبور کا کہناتھا پاکستان میں اس مرض کے شعور کی آگاہی کے لئے کام کر رہے ہیں اگر سانس پھولے ،سر درد ہو تو بلڈ پریشر کی تشخیص کریں مریض اور ان کے لواحقین احتیاط برتیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی عادات کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ملک میں 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں ہے ۔اس حوالے سے آگاہی مہم چلائیں گے ۔میڈیا بھی لوگوں کی آگاہی کے لئے کردار ادا کرے۔







