جانوروں کی ویکسین بغیر لائسنس کے بنائے جانے کا انکشاف

پاکستان میں جانوروں کی ویکسین بغیر لائسنس بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی غذائی تحفظ میں ڈی جی لائیو اسٹاک خیبرپختونخوا نے کہا آٹھ سال سے لائسنس اپلائی کیا ہوا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی لائسنس کے اجرا میں تاخیر کر رہی ہے ، قائمہ کمیٹی نے شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ڈریپ حکام کو طلب کرلیا۔جانوروں کی ویکسین بغیر لائسنس بنائے جانے کا معاملہ سینیٹر ایمل ولی خان نے اٹھایا۔ جس پر ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک خیبر پختونخوا ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ ویکسین کی تیاری ڈریپ کا ادارہ بننے سے پہلے سے جاری ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں جانوروں کے لیے ویکسین کی تیاری بغیر لائسنس ہو رہی ہے۔ ارکان کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی کی سرزش کر دی۔ آئندہ اجلاس میں ڈریپ حکام کو طلب کر لیا گیا ۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا میں نے آسٹریلیا سے جانور منگوائے جن میں بیماری پھیلی اور نقصان ہوا۔ دوسری طرف ہمارا محکمہ ویکسین کے نام پر پانی بیچ رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed