سانحہ نائن الیون کو 25 سال بیت گئے مگر اس دن کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشتگرد حملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، ہائی جیک کیے جانے والے طیارے موت بن کر بلند و بالا ٹوئن ٹاورز سے ٹکرائے، ٹوئن ٹاورز پر یکے بعد دیگرے دو حملوں سے تین ہزار کے قریب جانیں لقمہ اجل بنیں۔ اس دن کی مناسبت سے امریکہ بھر میں مختلف تقریبات منعقد ہوئیں اور حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ۔اس سلسلے میں نیو یارک میں ایک خصوصی ڈرون لائٹ شو کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر نیو یارک ہاربر پر آسمان 2,977 ڈرونز کی روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔ڈرون لائٹ شو میں 2,977 ڈرونز اس لیے استعمال کیے گئے کیونکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 2,977 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ڈرون لائٹ شو کا نام بھی2,977 لائٹس اوور نیو یارک ہاربر رکھا گیا جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رات کے وقت نیو یارک ہاربر پر ہزاروں روشنیاں بلند ہوئیں اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے خاکے میں تبدیل ہو گئیں۔ڈرون لائٹ شو کا انعقاد کرنے والے ڈائریکٹر اور ایگزیکٹیو پروڈیوسر ایڈیسن مہر کا کہنا ہے کہ اس ڈرون لائٹ شو کا مقصد 11 ستمبر کے سانحے کے تمام متاثرین کے انفرادی نقصان اور یاد کو نمایاں کرنا تھا، اسی لیے ڈرون لائٹ شو کے لیے متاثرین کی تعداد کے عین مطابق 2,977 ڈرونز استعمال کیے گئے۔ڈرون لائٹ شو کی تیاری میں متاثرین کے اہلِ خانہ، اس سانحے میں زندہ بچ جانے والے افراد اور امدادی کارکنوں نے بھی حصہ لیا۔یادرہے نائن الیون نے دنیا کی عسکری اور سیاسی جہت کو بدل کر رکھ دیا، افغانستان میں امریکی بدلے کی کارروائی مشرق وسطی میں ہولناک جنگوں کا باعث بنی۔11 ستمبر 2001 کی صبح جو معمول کے مطابق شروع ہوئی، مگر تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں ہمیشہ کیلئے درج ہوگئی، امریکا پر ایسا حملہ جس نے صرف عمارتیں نہیں گرائیں بلکہ دنیا کا سیاسی منظر نامہ ہی بدل دیا۔انیس دہشت گردوں نے امریکا کے تین مختلف ہوائی اڈوں سے چار مسافر طیارے ہائی جیک کئے، دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، ایک پینٹاگون سے جا ٹکرایا اور چوتھا پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا، چند ہی لمحوں میں بلند و بالا ٹوئن ٹاور کی عمارتیں ملبے کے ڈھیر میں بدل گئیں۔حملے کے وقت صدر جارج ڈبلیو بش ریاست فلوریڈا میں ایک پرائمری سکول کا دورہ کر رہے تھے، وائٹ ہاس کے چیف آف سٹاف اینڈی کارڈ نے ان کے کان میں حملے کی اطلاع دی۔صدر بش نے بچوں کی کلاس مختصر کی سکول میں موجود ایک کمرے میں جا کر تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور قومی سلامتی حکام کو ہدایات جاری کیں اور قوم سے خطاب کیا۔9/11 کے دہشتگرد حملے میں تقریبا تین ہزار افراد ہلاک ہوئے، حملے امریکا پر تھے مگر اس کے اثرات پوری دنیا نے بھگتے، امریکا نے القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو حملوں کا ذمے دار قرار دیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کا اعلان کرکے افغانستان پر فوجی کارروائی شروع کردی، دہشت گردی کے خلا جنگ میں ہزاروں بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے۔9/11 کو دو دہائیاں گزر چکی ہیں مگر اس دن کے بعد امریکا کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں کے اثرات نے آج تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔







