کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت نے جامعہ کراچی کے استاد کو موبائل فون پر دھمکانے کے مقدمے میں نامزد ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم کونین شاہ کو کارروائی کے دوران عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں فاضل قاضی نے ان کی جانب سے دائر کردہ بریت اور کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کو نامنظور کرتے ہوئے انہیں تین روز کے لیے تحویل میں دینے کی ہدایت کی۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ معاملہ ابھی ابتدائی تفتیشی مرحلے میں ہے، اس لیے ملزم کو مقدمے سے خارج کرنا وقت سے پہلے ہوگا۔ حکم نامے کے مطابق جرم میں استعمال ہونے والے سیل فون، کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) اور شناخت کے عمل کا فارنزک معائنہ ہونا ابھی باقی ہے۔
واضح رہے کہ ملزم کونین شاہ نے رواں ہفتے منگل کے روز اپنے دیگر رفقا کے ساتھ مل کر معمولی تکرار پر پروفیسر عارف ساقی اور ان کے بھتیجے وحید کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کی ایف آئی آر سچل پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں گزشتہ روز ان پر فون پر دھمکیاں دینے کا ایک اور کیس بھی قائم کیا گیا۔







