جیفری ہنٹن کا اعتراف: اے آئی کے بغیر دنیا بہتر ہوتی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیاد رکھنے والے معروف سائنسدان اور نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن نے ایک تشویشناک اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا میں یہ ٹیکنالوجی تیار نہ کی جاتی تو انسانیت کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔ برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان نے خبردار کیا کہ رواں سال کے آخر یا اگلے برس تک اے آئی سسٹمز کسی بڑے مالیاتی بحران یا پاور سسٹم کے بلیک آؤٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔

جیفری ہنٹن کے مطابق آئندہ ایک دہائی کے اندر یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا انسان اس سمارٹ ٹیکنالوجی کے خطرات کو قابو میں رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان تفاوت مزید بڑھے گا، جبکہ بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور ثقافتی مسائل جیسے چیلنجز معاشرتی ساخت کو بکھیر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں اے آئی ایجنٹس کے ذریعے حقیقی کمپنیوں کے سسٹمز کو ہیک کیے جانے کے واقعات ایک بھیانک شروعات ہیں، کیونکہ جیسے جیسے یہ ماڈلز مزید ذہین ہوں گے، انہیں کنٹرول کرنا اور بھی ناممکن ہو جائے گا۔

2023 میں گوگل کی ملازمت چھوڑنے والے جیفری ہنٹن، جنہوں نے 2024 میں فزکس کا نوبیل انعام بھی جیتا تھا، طویل عرصے سے اے آئی کے خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ 20 سالوں میں اے آئی سسٹمز انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائیں گے، جس کے اثرات ماضی کے صنعتی انقلاب جیسے ہوں گے جہاں مشینیں انسانی صلاحیتوں پر غالب آ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کے طبی شعبے میں بے شمار فائدے ہیں، لیکن بدقماش عناصر کی جانب سے اس کے استعمال اور بے قابو ہونے کے خدشات انتہائی خوفناک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed