خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب کا پیکیج خوش آئند ہے


ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز ) پشاور

خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ اہم صوبہ ہے جس کی جغرافیائی اہمیت، تاریخی پس منظر، قبائلی روایات، قومی خدمات اور عوام کی بے مثال قربانیوں نے ملکی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس استقامت، بہادری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا، وہ پاکستان کی اجتماعی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ہزاروں خاندانوں نے اپنے پیاروں کی جدائی برداشت کی، کاروبار تباہ ہوئے، تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا اور امن وامان کی غیر یقینی صورت حال نے عام شہریوں کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا۔ ایسے حالات میں خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی، عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور قبائلی اضلاع کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر انداز سے شامل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان ایک اہم اور قابل ستائش پیش رفت ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں، قبائلی مشران اور سیاسی نمائندوں نے بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے میں ترقی کی رفتار تیز کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور خوشحالی کے ایک نئے باب کے آغاز کی طرف بڑا قدم قرار دیا ہے، اس پیکیج کا اعلان وزیراعظم نے ان 12 اضلاع کی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے،اس نے لوگوں بالخصوص ضم قبائلی اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ دیگر علاقوں کے رہائشیوں میں نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں، قبائلی نمائندوں، سیاست دانوں اور عوام کے مطابق یہ ترقیاتی اقدام ایسے وقت پر سامنے آیا جب خیبر پختونخوا کو دہشت گردی، بے روزگاری، غربت، کمزور، انفراسٹرکچر اور ناکافی عوامی خدمات کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔وفاقی حکومت کا یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل محض امن و امان تک محدود نہیں، صوبے کے شہریوں اور دیہی آبادی کو روزگار کی کمی، مہنگائی، صحت کی سہولتوں، تعلیمی مواقع، صاف پانی، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ قبائلی اضلاع میں ان مشکلات کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، جہاں طویل عرصے تک بدامنی، نقل مکانی اور معاشی سرگرمیوں میں تعطل کے باعث ترقی کا عمل متاثر رہا۔ اگر اعلان کردہ 160 ارب روپے شفاف منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے خرچ کیے جاتے ہیں تو ان کے مثبت اثرات بتدریج عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ بہتر سڑکیں، فعال تعلیمی ادارے، بنیادی مراکز صحت، صاف پانی کی فراہمی، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کی بحالی وہ نتائج ہیں جو اس سرمایہ کاری کو عوام کے لیے حقیقی معنوں میں مفید بنا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گورنر ہاس پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزرا احسن اقبال اور محسن نقوی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن وامان کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس نوعیت کے اجلاسوں کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، معلومات کا بروقت تبادلہ، وسائل کی مناسب تقسیم اور واضح ترجیحات ضروری ہوتی ہیں۔ جب سیاسی اور عسکری قیادت ایک مشترکہ قومی مقصد کے لیے بیٹھتی ہے تو اس سے مربوط حکمت عملی تشکیل دینے اور عملی اقدامات میں بہتری لانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا اور سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ اس جنگ میں شہریوں، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسروں اور ان خاندانوں نے قربانیاں دی ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو ملک کے امن اور سلامتی کے لیے کھو دیا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف کارروائیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس امر سے بھی ناپی جانی چاہیے کہ کتنے شہری محفوظ ہوئے، کتنے علاقے معمول کی زندگی کی طرف لوٹے، بچوں کو کتنی بہتر تعلیم کی میسر آئی اور کاروبار و دیگر سرگرمیوں میں کس حد تک اضافہ ہوا۔ خیبر پختونخوا میں ماضی کے تجربات نے واضح کیا ہے کہ امن قائم کرنا مشکل ضرور ہے لیکن اسے برقرار رکھنا اس سے بھی زیادہ مسلسل توجہ کا متقاضی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق 2018 تک صوبے میں امن کی صورت حال میں نمایاں بہتری آ چکی تھی، جس کے پیچھے سیکیورٹی اداروں، پولیس اور عوام کی طویل جدوجہد شامل تھی۔ بعد کے برسوں میں دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے سے عوامی زندگی اور ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں تاہم قومی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ ماضی کے تجربات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر ان خامیوں کی نشاندہی کی جائے جن کی اصلاح مستقبل میں امن کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کے فیصلوں، اخراجات، انتظامی اقدامات اور عوام کو حاصل ہونے والے نتائج کا شفاف جائزہ لیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed