عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کو مصنوعی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ جنگ نہیں تھی بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر غیر معمولی مہربانی کا معاملہ تھا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم نے تو کوئی ایسی جنگ نہیں دیکھی، ٹرمپ کبھی چھ، سات اور کبھی آٹھ طیارے گرانے کے دعوے کرتے ہیں۔انہیں سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس وجہ سے پاکستانی قیادت پر اتنے مہربان ہیں اور ہر مرتبہ پاکستان کی جانب سے گرائے گئے بھارتی طیاروں کی تعداد میں ایک کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کو وہ جنگ نہیں سمجھتے۔ان کا کہنا تھاکہ یہ کوئی جنگ نہیں ہوتی کہ ایک فریق چھ جہاز اڑانے اور دوسرے تین راکٹ داغنے کا دعوی کرے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل اگر ایک ڈرون بھی گر جائے تو اس کا ملبہ سامنے آ جاتا ہے، لیکن اس مبینہ جنگ میں صرف چند پرزے دکھائے گئے اور اسے بڑی جنگ قرار دے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خدا نہ کرے پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی جنگ ہو، کیونکہ جنگ کی تباہ کاریوں کی مثال ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی لڑائی ہے، جہاں ایران تباہ و برباد ہو گیا۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کیلئے مسلسل تعریف اور حمایت بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔







