امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی زرق برق اور شوخ تزئین و آرائش مڈ ٹرم الیکشن کی مہم کے دوران سابق امریکی صدور کی تنقید کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ سابق صدر باراک اوباما اور بل کلنٹن نے وائٹ ہاؤس میں کی گئی تبدیلیوں کو بھڑکیلے ریسٹورنٹ اور باتھ روم سے تشبیہ دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جارجیا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر سنجیدہ افراد پر مشتمل ہے جو مہنگائی اور معاشی مسائل حل کرنے کے بجائے فضول اور سطحی معاملات پر طاقت ضائع کر رہے ہیں۔ اوباما کے طنز پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے معاشی حکام کو پریس کانفرنس پر لگانے پر انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مصنوعی غصے اور سنسنی کے ذریعے عوام کی توجہ مہنگائی جیسے حقیقی چیلنجز سے ہٹانا چاہتی ہے۔
اوباما کے علاوہ سابق صدر بل کلنٹن نے روز گارڈن کی تزئینِ نو کو زرق برق اسٹائل سے تشبیہ دی، جبکہ ہیلری کلنٹن نے اوول آفس میں سونے کے استعمال کو ذاتی نمائش قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ سابق عراقی صدر صدام حسین کے محلات کی آرائش سے کیا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام تنقیدوں کو رد کرتے ہوئے اوباما کو نااہل صدر قرار دیا اور اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔







