سیاسی حکومتیں بلدیاتی انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتیں، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ سیاسی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔الیکشن کمیشن نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، سماعت کے دوران صوبائی حکومت نے بدامنی، ایمرجنسی، بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور گورنر راج کے باعث فوری انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے مزید مہلت مانگ لی۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، مشیر قانون خیبرپختونخوا امیر جاوید نے مقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینے اور مجوزہ قانونی ترامیم کے لیے مزید مشاورت درکار ہے۔سماعت کے دوران صوبائی مشیر قانون نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو صوبے کے مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ بعض علاقوں میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات ہے۔ان کے مطابق گورنر راج کے باعث صوبائی وزرا بھی موجود نہیں، جس کی وجہ سے انتظامی اور قانونی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے وقت درکار ہے، انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانونی ترامیم تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھجوانا ہوں گی، اس لیے فوری طور پر قانون سازی ممکن نہیں۔مشیر قانون نے انتخابات کے معاملے پر اٹارنی جنرل اور گورنر سے مشاورت کے لیے بھی مزید مہلت طلب کی۔چیف الیکشن کمشنر نے سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ جب صوبے کے 24 میں سے 16 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں تو وہاں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جا سکتے؟انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 245 یا ایمرجنسی انتخابات کے انعقاد میں قانونی رکاوٹ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر سکیورٹی کے لیے فوج تعینات ہے تو اس کی مدد سے پرامن انتخابات کرانے کے امکان کا جائزہ کیوں نہیں لیا جا سکتا؟الیکشن کمیشن حکام نے مقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے دوران انتخابات کرانے پر قانونی پابندی نہیں، تاہم امن و امان کی صورتحال اپنی جگہ ایک اہم معاملہ ہے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے سماعت کے دوران کہا کہ دنیا میں ایمرجنسی اور جنگ کے دوران بھی انتخابات کرانے کی مثالیں موجود ہیں۔سپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی مکمل کرنے کے لیے متعدد مرتبہ مہلت دی گئی، لیکن یہ عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔چیف الیکشن کمشنر نے بھی کہا کہ حکومت کو مختلف اضلاع میں آبادی کی حد سے متعلق قانون سازی کے لیے بارہا آگاہ کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed