پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ اداروں کے خلاف بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز کے کسی بھی بیانیے سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے اور انہیں اب مشورے دینے سے روک دیا گیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود حکومت کا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت انتہائی نازک موڑ پر ہے اور مہنگائی و بے روزگاری کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملنی چاہیے، ورنہ پُرامن احتجاج کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی اس وقت مزاحمتی اور مفاہمتی راستے کے درمیان موجود ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل حکومتی رویے پر منحصر ہوگا۔ شوکت یوسفزئی نے فارورڈ بلاک کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بیرسٹر گوہر کی قیادت میں مکمل متحد ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سابق قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور صوبے میں ایمرجنسی و گورنر راج کا نفاذ آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے گرفتار بے گناہ کارکنوں اور خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی مذاکرات کی پیشرفت ممکن ہو سکتی ہے۔







