پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اقدام کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کے دفتر کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے عدالت سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو فوری معطل کرنے کی استدعا کی اور موقف اپنایا کہ ایک ہی دن میں گورنر راج، ایمرجنسی کا نفاذ اور ایڈوائزری کونسل کی تشکیل کا عمل مکمل کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران 38 ڈپٹی کمشنرز کے تبادلے کیے گئے جبکہ تحریک انصاف کے 12 اراکین قومی اسمبلی اور 13 اراکین صوبائی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی اپنے دلائل میں نقطہ اٹھایا کہ قانونی و آئینی طور پر صوبائی حکومت کی باقاعدہ منظوری کے بغیر کسی بھی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
طرفین کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔






