سہیل آفریدی گرفتار نہیں’ حفاظتی تحویل میں ہیں’ وفاقی حکومت

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت خیبرپختونخوا میں پولیس کی تحویل میں موجود ہیں، تاہم ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے جبکہ سہیل آفریدی احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ ان کا دعوی تھا کہ سابق وزیراعلی ماضی میں بھی پرتشدد احتجاج کی قیادت کر چکے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایک مقام سے گزرنے کے لیے دہشت گردوں سے راستہ مانگا تھا۔انہوں نے مزید دعوی کیا کہ سہیل آفریدی کو تحویل میں لیے جانے کے وقت شفیع جان اور دیگر افراد فرار ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق کچھ افراد کو تحویل میں لیا گیا جبکہ بعض روپوش یا فرار ہوگئے۔خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے دعوی کیا کہ گیلپ سروے سے ثابت ہوا ہے کہ صوبے کے عوام اس اقدام سے خوش ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے سیاسی مخالفین پر مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ دہشت گردوں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں اور ان کی جماعت کے قائد نے ہی ماضی میں دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا تھا۔دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چوہدری نے کہا ہیکہ سابق وزیراعلی سہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔ ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مذاکرات شروع ہوئے، ہمیں کافی امید تھی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران جو چوتھا ڈرافٹ تیار ہوا اس کی منظوری وزیراعلی کے پی سیلینا تھی، معلومات کے مطابق وزیراعلی کے پی ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔ طارق فضل کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کے حوالے سے خبریں میڈیا پر آئیں، محمود اچکزئی نے کہا عمران خان سے ملاقات کے بغیر ایک قدم آگے نہیں بڑھا جاسکتا، مذاکرات میں ملاقات کا ٹائم فریم اور ایک مستند حل موجود تھا، چیزیں اس وقت حل ہوجاتیں تو شاید معاملات اب مختلف ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفے دیتی ہے تو 40 ارکان استعفے نہیں دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed