پشاور میں منہدم ہونے والا اسکول اصل میں رہائشی عمارت تھی

پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی دیر کالونی میں منہدم ہونے والے نجی اسکول سے متعلق کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کی جاچ رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق 15 اکتوبر کو گرنے والی اسکول کی عمارت بنیادی طور پر رہائشی مقصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی اور یہ تعلیمی ادارے کی ضروریات کے مطابق نہیں بنی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکول کی پہلی منزل کی چھت انتہائی کچی اور عارضی ساخت کی تھی، جسے لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر تیار کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ چھت بچوں اور فرنیچر کا بوجھ نہ سہہ سکی اور زمین بوس ہو گئی۔ مزید برآں، عمارت کا نقشہ کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ عمارت سال 2011 میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن 4 کے حدود میں قائم کی گئی تھی، اور چونکہ باہر سے یہ خطرناک دکھائی نہیں دیتی تھی، اس لیے پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے اس سے قبل اس کی رپورٹ درج نہیں کی۔

رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں کی نگرانی، رجسٹریشن اور ریگولیشن کی تمام تر ذمہ داری پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی پر عائد ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اس نجی اسکول کی چھت گرنے کے دل دہلا دینے والے حادثے میں 34 معصوم بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر پشاور نے متاثرہ خاندانوں اور شہدا کے لواحقین میں 2 کروڑ روپے سے زائد کے امدادی چیک بھی تقسیم کیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed