چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے آج بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں *لائیو ای۔کچہری کے دوران 28 کالرز کے مسائل سنے اور متعلقہ افسران کو شکایات ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ ادائیگیوں میں انٹرآپریبلٹی کا نظام خواتین بینیفشریز کو ملک کے کسی بھی شہر میں، کسی بھی دن، کسی بھی وقت، چھ پارٹنر بینکوں کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے رقم وصول کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔ اس نظام کے تحت خواتین کسی ایک شہر یا بینک تک محدود نہیں رہیں گی۔ چھ پارٹنر بینکوں میں HBL، Habib Microfinance، Bank Alfalah، Telenor Microfinance، Bank of Punjab اور Mobilink/Jazz Bank شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر ڈیجیٹل والٹ کا نظام خواتین کو محفوظ اور شفاف ادائیگیوں کی فراہمی کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔چیئرپرسن نے ہدایت کی کہ خواتین بینیفشریز مفت بینظیر سم صرف بی آئی ایس پی دفتر سے حاصل کریں۔ سم کے حصول کے لیے اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں۔ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی دفتر یا مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ رقم کی منتقلی اور وصولی کے بعد موصول ہونے والے تصدیقی پیغامات محفوظ رکھیں، رقم وصول کرتے وقت اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر یا ایجنٹ کے حوالے نہ کریں۔ رقم وصول کرنے کے لیے اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ جن خواتین کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، وہ فوری طور پر نادرا سے تجدید کروائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سروے کے ذریعے گھرانے کی اہلیت کا تعین کیا جاتا ہے اور ایک سروے کے بعد دو سال سے پہلے دوبارہ سروے نہیں ہو سکتا؛ لہذا خواتین بار بار سروے کے لیے بی آئی ایس پی دفاتر کا رخ نہ کریں۔






