خیبرپختونخوا میں صفائی کے نظام کی نگرانی کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈبلیو ایس ایس پی قر العین وزیر رات گئے فیلڈ میں موجود رہیں، انہوں نے ملازمین کو سخت ہدایات دیتے ہوئے واضح کیا کہ نالے صاف کروں گی، شرم کی کوئی بات نہیں اس میں، نالوں کی صفائی اور شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، اس کام کو انجام دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ انہوں نے عملے کو خبردار کیا کہ کام میں غفلت اور شکایات پر جواب نہ دینے کا سلسلہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اٹلسنقشے دیکھیںقر العین وزیر نے ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نالوں کی صفائی ان کا کام ہے اور انہیں اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر کوئی شرم نہیں۔ذرائع کے مطابق وہ فیلڈ میں جاری کام کی صورت حال سے آگاہ ہوچکی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ کون سا ملازم کتنی ذمہ داری سے کام کررہا ہے۔انہوں نے عملے پر زور دیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی پوری توجہ کے ساتھ انجام دے اور صفائی کے معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر نے ملازمین کو خبردار کیا کہ شہریوں کی شکایات کو نظرانداز نہ کیا جائے اور ہر شکایت کا بروقت جواب دیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ یہ اطلاع ملی کہ کسی شکایت کا جواب نہیں دیا گیا تو ملازمین کو رات گئے تک بھی کام کرنا پڑسکتا ہے۔قر العین وزیر نے کہا کہ انہیں فیلڈ میں خود آنے پر مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ ایسی صورت میں وہ غفلت کے مرتکب ملازمین کے خلاف معطلی اور تبادلے سمیت کارروائی کرسکتی ہیں۔قر العین وزیر نے اپنے خطاب میں ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کام میں غفلت برداشت نہیں کریں گی اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ عملے کے خلاف سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔ان کی ہدایات کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لیے ملازمین کی حاضری، کارکردگی اور شہریوں کی شکایات پر فوری ردعمل کو یقینی بنایا جائے۔پشاور میں صفائی کے نظام کی بہتری کے لیے فیلڈ نگرانی اور شکایات کے ازالے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب شہریوں کو گلیوں، سڑکوں اور نالوں کی صفائی سے متعلق مسائل کا سامنا ہو۔







