ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں پاک افغان سرحدی گزرگاہ طورخم بارڈر پر پھر کشیدگی بڑھنے لگی ہے، جس کی اہم وجہ افغان فورسز کی متنازعہ مقام پر کام شروع کر نا بتایا گیا ہے، تاہم بعدازاں افغان فورسز نے شروع کیا گیا کام روک دیا، اور طورخم بارڈر بھی کھول دی گئی۔طورخم بارڈر پر پھر حالات کشیدہ ہونے کے حوالے سے سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے پیش نظر سرکاری اہلکاروں کو طورخم سے نکلنے کی ہدایت دی گئی ہیں جبکہ افغان مہاجرین کو لے جانے والی گاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل کے قریب طورخم بارڈر پر صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی ہے، اس سلسلے میں اطلاعات ہیں کہ افغان فورسز نے متنازعہ مقام پر دوبارہ کام شروع کردیا ہے، جس کے بعد سرحدی علاقے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر سرکاری اہلکاروں کو طورخم سے نکلنے کے لیے کہا گیا ہے، اطلاعات کے مطابق طورخم کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کو لے جانے والی گاڑیوں کو بھی طورخم سے واپس کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ لنڈی کوتل میں پاک افغان سرحدی گزرگاہ طورخم بارڈر پر پھر کشیدگی بڑھنے لگی ہے، جس کی اہم وجہ افغان فورسز کی متنازعہ مقام پر کام شروع کر نا بتایا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلی حکام کے درمیان آج طورخم بارڈر پر مزاکرات ہونگے، یاد رہے کہ پاک افغان بارڈر طورخم صرف واپس جانے والے افغان مہاجرین گاڑیوں کے لئے کھول دی گئی







