قبائلی مشران نے الگ سیکرٹریٹ اور قبائلی ترقیاتی کونسل کے قیام کی حمایت کر دی

خیبر پختونخوا کے قبائلی عمائدین نے قبائلی اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ اور علاقائی ترقیاتی کونسل کے قیام سے متعلق حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مقامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی اور قبائلی عوام کو مثر نمائندگی دینے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔باجوڑ کے قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی نظام کے ذریعے قبائلی علاقوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے اور مقامی آبادی کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبے تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مقامی عمائدین کے مطابق 2018 میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد سے عوام کو جس ترقی اور توجہ کی توقع تھی، وہ پوری نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان سے متعلق مسائل بھی برقرار رہے، جبکہ مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی وسائل کی ضرورت ہے۔عمائدین نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچے اور کونسل کا قیام ان کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے۔ انہوں نے اس فیصلے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔قبائلی عمائدین کے مطابق ترقیاتی فنڈز اور بجٹ سے متعلق معاملات کو کونسل کے ذریعے آگے بڑھانے سے مختلف علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے بنانے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں گلیوں، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر سمیت عوام کی بنیادی ضروریات کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ مقامی آبادی کو درپیش مسائل کم ہوں اور بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر بنائی جاسکے۔مقامی مشران نے امید ظاہر کی کہ نئے نظام کے تحت قبائلی علاقوں کے رہائشیوں کی آرا اور ترجیحات کو ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے گا، ان کے مطابق مقامی سطح پر مشاورت سے ایسے منصوبوں کی نشاندہی ممکن ہوگی جو عوام کی حقیقی ضروریات پوری کرسکیں۔عمائدین نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ الگ سیکریٹریٹ اور علاقائی ترقیاتی کونسل کے ذریعے قبائلی اضلاع کو ان کے جائز ترقیاتی وسائل ملیں گے اور علاقے میں ترقی، امن اور استحکام کے لیے مثر اقدامات کیے جاسکیں گے۔باجوڑ کے قبائلی عمائدین نے واضح کیا کہ قبائلی عوام کا تعلق پاکستان اور ریاست کے ساتھ ہے اور وہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed