سانحہ دیر کالونی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ بار نے رٹ دائر کردی

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے الم ناک اور دلخراش سانحے کے بعد قانونی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان ایڈووکیٹ نے واقعے کی شفاف تحقیقات، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور صوبے بھر کے اسکولوں کے سیفٹی آڈٹ کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں باقاعدہ آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔دائر کردہ درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومت، سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W)، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (PDA) اور پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام معصوم طلبہ اور خاتون ٹیچر کے غمزدہ لواحقین کے لیے فوری طور پر "شہداء پیکیج” کا اعلان کیا جائے اور زیرِ علاج زخمی بچوں کو تمام تر علاج معالجے کی مفت سہولیات سمیت مناسب مالی معاوضہ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ نجی اسکول بغیر کسی درست رجسٹریشن، منظور شدہ نقشوں، سیفٹی سرٹیفکیٹس اور قانونی این او سی کے غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا، اور عمارت کو حفاظتی معیار کے مطابق برقرار نہ رکھنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز ۴، ۹، ۱۴، ۲۵ اور ۲۵ اے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پٹیشن میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے بااعتماد جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، متاثرہ اسکول کا تمام انتظامی و بلڈنگ ریکارڈ طلب کیا جائے، اور غفلت کے مرتکب اسکول مالکان، انتظامیہ اور غافل سرکاری حکام کے خلاف سخت فوجداری و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ علاوہ ازیں صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں کا اسٹرکچرل و فائر سیفٹی آڈٹ کروا کر غیر محفوظ عمارتوں کو مرمت تک فوری طور پر سیل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed