گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے منظور

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں وفاق کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کو شدید آئینی و قانونی چیلنج کا سامنا کرنے پر دائر کردہ اہم درخواستیں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے کیس کی باضابطہ سماعت کے لیے ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی جانے والی ان الگ الگ آئینی پٹیشنز میں فیڈریشن آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم، گورنر خیبرپختونخوا اور دیگر وفاقی و صوبائی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی کو جواز بنا کر دو دہائیوں سے جاری جمہوری عمل اور ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں عوام کے حاصل کردہ دو تہائی سیاسی مینڈیٹ کو معطل کرنا بدنیتی اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل ۲۳۲ اور ۲۳۴ کے طے شدہ ضوابط و پارلیمانی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔پٹیشن میں قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۵ء کے شدید ترین امن و امان کے بحران کے دوران بھی کے پی میں کبھی گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں ہلاکتوں اور دہشت گردی کے باوجود وہاں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، جو وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ امتیازی سلوک کا واضح ثبوت ہے۔ پٹیشن میں آئینی و جمہوری احتجاج کو ریاست کے لیے خطرہ قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے اور حتمی فیصلے تک کے پی میں گورنر راج کے تمام تر اجرائیت کو معطل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed