خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا جدوجہد کا اعلان

خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کے خلاف ملک کی تمام نمایاں اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد قائم کرتے ہوئے مشترکہ آئینی و سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سربراہ سردار اختر مینگل اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس (APC) کے انعقاد اور ضرورت پڑنے پر قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے سخت آپشن سے خبردار کیا ہے۔پشاور ہائیکورٹ آمد پر خیبرپختونخوا کے ۴ کروڑ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وفاق نے زبردستی اور غير آئینی طریقے سے منتخب صوبائی حکومت کا خاتمہ کیا ہے اور برطرف چیف منسٹر سہیل آفریدی، وزراء و اراکینِ اسمبلی کے مبینہ غائب ہونے کے واقعات جمہوریت کے چہرے پر دھبہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن پرامن جدوجہد، آئین کی بالادستی، متنازع آئینی ترامیم کی واپسی اور پارلیمنٹ کی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے، تاہم اگر حکومت نے بات نہ سنی تو اسمبلیاں چھوڑنے کا آپشن بھی موجود ہے۔پریس کانفرنس کے دوران اختر مینگل نے کہا کہ آئین کے دعویدار ہی آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور کے پی میں گورنر راج نافذ کر کے پورے صوبے کے عوام پر بلاجواز الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ فارم ۴۷ کی پیداوار حکومت سے ملک اور نظام نہیں سنبھل رہا جس کے بعد ایک پورے صوبے کی عوام کے مینڈیٹ پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، پشاور ہائیکورٹ نے بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء کے گورنر راج نوٹیفکیشن کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست کو ۲۰ اکتوبر کو سماعت کے لیے باقاعدہ مقرر کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed